’’ترانہ گارہے ہیں طائران خوش نوا تیرا‘‘ یہ عاصی بھی ثنا خواں ہے مرے ربِ اعلیٰ تیرا

مرزاعاصیؔ اختر (میر پور خاص)

’’ترانہ گارہے ہیں طائران خوش نوا تیرا‘‘
یہ عاصی بھی ثنا خواں ہے مرے ربِ اعلیٰ تیرا

تو چاہے تو مری ادنی عبادت معتبر کردے
عدالت ہے تری، کرسی تری، روز جزا تیرا

مشام جاں معطر کر گئی جو اہل ایماں کا
عجب انداز سے پیغام لائی ہے صبا تیرا

مسلمانوں کی ساری مشکلیں آسان فرمادے
الٰہی نام ہے عقدہ کشا، مشکل کشا تیرا

مرے اللہ تیرے نام نامی کا کرشمہ ہے
کہ لیجے جس گھڑی بھی نام، لگتا ہے نیا تیرا

یہ تیرے میرے کا جھگڑا یقینا ختم ہوجائے
اگر عاصیؔ سمجھ لیں لوگ کافی ہے دیا تیرا