تری ہی قدرت کے رنگ سارے اتر رہے ہیں مری نظر میں

ڈاکٹر عبید الرحمن ( نئی دہلی)

تری ہی قدرت کے رنگ سارے اتر رہے ہیں مری نظر میں
ہر ایک جانب ہے تو نمایاں ہے تو ہی خشکی پہ تو ہی تر میں
ہر ایک گل میں ہے تیری رنگت، ہر اک کلی میں ہے تیری نکہت
تمام گلشن میں تو ہی تو ہے نہاںہے تو ہی ہر اک شجر میں
ہے صبح کی روشنی میں تو ہی ہے تو ہی سائے میں شام کے بھی
ہے شمس میں بھی تری تجلی ترا ہی جلوہ عیاں قمر میں
تو ابتدا بھی تو انتہا بھی تو ہی ہے اول ہے تو ہی آخر
ہے دانے دانے میں تیری حکمت ترا کرشمہ ہر اک ثمر میں
یہ جاہ و منصب، یہ فہم و دانش عنایتیں ہیں تری خدایا
نوازشیں ہیں تری ہی مولا جھلک رہی ہیں جو دیدہ ور میں
خدائے بر تر جو تیری وسعت مکاں سے پھیلی ہے لا مکاں تک
بیان اس کا جو ہو تو کیوں کر مجال اس کی کہاں بشر میں
اِدھر ُادھر بے ارادہ بھٹکے عبیدؔ کو یہ سزا نہ دینا
رسائی منزل تلک ہو جس سے خدایا رکھنا اسی سفر میں