ترے جمال کی شوکت میں کھو گیا ہوں میں

اسرار احمد ساوری

ترے جمال کی شوکت میں کھو گیا ہوں میں
مجھے یہ وہم و گماں بھی نہیں کہ کیا ہوں میں

ترے کرم پہ بھروسہ ہے اس قدر مجھ کو
ہجومِ یاس میں تجھ کو پکارتا ہوں میں

کمالِ حسن اُدھر ہے، نیازِ عشق ادھر
نیاز و ناز کے پردے اٹھا رہا ہوں میں

نظر کو دید سے غیروں کی کردیا محروم
حضورِ حسنِ مجسم نظر بنا ہوں میں

وفا کو میری صلہ بھی عطا ہو جانِ کرم
تری نگاہِ کرم کو ترس گیا ہوں میں

وفورِ شوق نے اِس درجہ کردیا بیخود
حریمِ ناز میں حد سے گزر گیا ہوں میں

گل و سمن ہیں ترے سینہ چاک گلشن میں
ترے نیاز کے سو رنگ دیکھتا ہوں میں

ترے جمالِ جہاں تاب کا یہ صدقہ ہے
تعینات کی حد سے گزر گیا ہوں میں

کمالِ شوق ہے ’’اسرار‘‘ بیخودی میں بھی
نیازِ عشق کے نغمے سنا رہا ہوں میں