تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا کیسی زمیں بنائی، کیا آسماں بنایا

مولوی محمد اسماعیل میرٹھی

تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا
کیسی زمیں بنائی، کیا آسماں بنایا

پیروں تلے بچھایا کیا خوب فرشِ خاکی
اور سر پہ لاجوردی اک سائباں بنایا

مٹی سے بیل بوٹے کیا خوشنما اگائے
پہنا کے سبز خلعت ان کو جواں بنایا

خوش رنگ اور خوش بو، گل پھول ہیں کھلائے
اس خاک کے کھنڈر کو کیا گلستاں بنایا

میوے لگائے کیا کیا خوش ذائقہ رسیلے
چکھنے سے جس نے ہم کو شیریں دہاں بنایا

سورج سے ہم نے پائی گرمی بھی روشنی بھی
کیا خوب چشمہ تونے، اے مہرباں بنایا
سورج بنا کے تونے رونق جہاں کو بخشی
رہنے کو یہ ہمارے اچھا مکاں بنایا

پیاسی زمیں کے منہ میں، مینہ کا چوایا پانی
اور بادلوں کو تونے مینہ کا نشاں بنایا

یہ پیاری پیاری چڑیاں پھرتی ہیں جو چہکتی
قدرت نے تیری ان کو تسبیح خواں بنایا

تنکے اٹھا اٹھا کر لائیں کہاں کہاں سے
کس خوبصورتی سے پھر آشیاں بنایا

اونچی اڑیں ہوا میں بچوں کو پر نہ بھولیں
ان بے پروں کا ان کو روزی رساں بنایا

رحمت سے تیری کیا کیا ہیں نعمتیں میسر
ان نعمتوں کا مجھ کو کیا قدر داں بنایا

آبِ رواں کے اندر مچھلی بنائی تونے
مچھلی کے تیرنے کو آبِ رواں بنایا

ہر چیز سے ہے تیری کاریگری ٹپکتی
یہ کارخانہ تونے کب رائیگاں بنایا