تو حاصل ہے تو لا حاصل کہاںہے یہاں نقصان کی منزل کہاںہے

مشکور حسین یادؔ

تو حاصل ہے تو لا حاصل کہاںہے
یہاں نقصان کی منزل کہاںہے
جو بندہ ہے ترا غافل کہاں ہے
جو قابل ہے وہ نا قابل کہاں ہے
ہے تیری معرفت ہی سب سے آساں
یہ آساں ہے تو پھر مشکل کہاں ہے
تری شانِ عطا کو دیکھ پائے
کوئی اس آن کا سائل کہاں ہے
یہ مانا آج باطل ہے نمایاں
مگر باطل کا مستقبل کہاں ہے
غضب ہے اہلِ دل یہ پوچھتے ہیں
جہاں رہتا ہے تو وہ دل کہاں ہے
جو تیرا نام لے کر گامزن ہیں
انہیں معلوم ہے منزل کہاں ہے