تو مرا خدائے برحق تو مکمل اور مطلق تو قدیم اور محقق

بختیارمشرقی

تو مرا خدائے برحق تو مکمل اور مطلق تو قدیم اور محقق
میں زمیں نہ آسماں کا تو ثابت اور قائم میں ہوائوں میں معلق
میں تمام تر معاصی تری حمد کیا کروں میں ترے وصف بیکراں ہیں
ترے انگنت فرشتے تری حمد کررہے ہیں جو محیط آسماں ہیں
یہ کروڑہا پرندے یہ وحوش یہ درندے یہ ملخ یہ مور سارے
وہ ہوں پتھروں کے کیڑے کہ ہوں کرم قعر دریا کہ زمیں کے چور سارے
تری حمد میں لگے ہیں ترے گیت گارہے ہیں یہ تمام مرغ و ماہی
یہ شجر حجر یہاں کے مہ و مہر آسماں کے گل و نجم صبح گاہی
مرا عجز کہہ رہا ہے وہ خدا ہے جانتا ہے کہ تری بساط کتنی!
تو بس ایک کام کرلے کوئی نعت لکھ نبیؐ کی مری بات مان اتنی!
کوئی نعت مصطفیؐ لکھ یہ پسند کبریا ہے یہی نسخہ کیمیا ہے
تو بس اے خدائے برتر یہ گناہ گار بدتر ترے سجدے میں پڑا ہے
تری حمد کے بھی قابل نہیں جانتا جو خود کو بھلا نعت کیا کہے گا
یہ تو پل صراط سے بھی بڑا سخت مرحلہ ہے مری لاج رکھ خدایا
ترا حکم مانتا ہوں میں درود بھیجتا ہوں ترے پیارے مصطفیؐ پر
سبھی آل مصطفیؐ پر تو قبول کرلے یارب بہ ادائے بندہ پرور
مری التجا ہے یارب مجھے بخش دے حضوری درِ کعبۂ یقیں کی
مجھے صدقہ دے نبیؐ کا مری بے بضاعتی تو نہیں رہ گئی کہیں کی!
میں بڑا خطا کنندہ تو بڑا رحیم یارب میں یہاں پہ سڑ رہا ہوں
مجھے بخش دے الٰہ ترے ہاتھ جوڑتا ہوں ترے پائوں پڑ رہا ہوں
ترے ہاتھ جوڑتا ہوں ترے پائوں پڑ رہا ہوں یہاں کب سے سڑ رہا ہوں