تو میرا خدا میرا خدا میرا خدا ہے تو سب سے بڑا‘ سب سے بڑا سب سے بڑا ہے

ڈاکٹر نسیم اخترؔ

تو میرا خدا میرا خدا میرا خدا ہے
تو سب سے بڑا‘ سب سے بڑا سب سے بڑا ہے

ہوں تیرا ثنا خواں‘ کوئی شکوہ نہ گلہ ہے
ہر حال میں احسان ترا‘ شکر ترا ہے

درد و غم دنیا کے ستائے ہوئے لوگو!
بس نام خدا لیتے رہو اس میں شفا ہے

باطل کے طلسمات کی ظلمت سے نکل کر
انسان ترے در کی طرف دیکھ رہا ہے

ہاتھ آئے گی یہ دنیا نہ عقبیٰ ہی ملے گی
تو اے مرے معبود اگر ہم سے خفا ہے

انجام بخیر اس کا ہے‘ خلد اس کو ملے گی
جو شام و سحر یاد تجھے کرتا رہا ہے

ماں باپ کی بھائی کی محبت ہے بڑی چیز
اللہ کا رشتہ مگر ان سب سے بڑا ہے

جو تیرے دکھائے ہوئے رستے پہ چلے گا
بخشش کا سزاوار ہے‘ خلد اس کی جزا ہے

معبود ہے سب کا‘ نہیں تیرا کوئی ثانی
تو مالک کل‘ بادشہِ ہر دوسرا ہے

دے غزنوی قوت تو غزالی دے حکمت
اس امت بیکس کی یہی تجھ سے دعا ہے

آلام زمانہ سے ہراساں نہیں اخترؔ
سایہ فگن اس پر تری رحمت کی ردا ہے