تکلف برطرف اب قمرؔ اعظمی سے ملیے

تکلف برطرف اب قمرؔ اعظمی
سے ملیے

از: مبارک حسین مصباحی

مدیر اعلیٰ ماہ نامہ
اشرفیہ، مبارک پور

باغِ فردوس کی علمی کہکشاں
میں ایک قمرؔ بھی ہے۔ جسے ہم بڑے ادب سے خطیب اعظم مفکر اسلام حضرت علامہ قمر
الزماں اعظمی مد ظلہ العالی کہتے ہیں۔ فلک کے قمر کی طرح قمرؔاعظمی بھی آفاقیت
اور خوش گوار ٹھنڈی روشنی کا استعارہ ہے۔حسنِ فطرت اگر صورتِ جسمیہ میں سمٹ جائے
تو اسے چاند سا پیکر کہتے ہیں اور اگر خطابت فکر و فن کی تمام جمالیات کے ساتھ کسی
پیکر میں ٹھہر جائے تو اسے قمرؔ اعظمی کہتے ہیں۔
سنا ہے بولتے ہیں وہ تو
پھول جھڑتے ہیں
اگر ہے سچ تو چلو بات کر کے
دیکھتے ہیں
مجھے بارہا علامہ کی محفل
میں بیٹھنے اور بات کرنے کا شرف ملا ہے۔ یہ
۲۶؍ جنوری ۲۰۱۱ء
کی بات ہے: تنظیم ابناے اشرفیہ ممبئی کے زیر اہتمام عروس البلاد میں’’ مجاہدِ
آزادی علامہ فضل حق خیر آبادی کانفرنس‘‘ تھی۔ نمازِ ظہر سے قبل کانفرنس کا پہلا
دور ختم ہو چکا تھا۔ دوسرے دور میں میری تقریر کے بعد علامہ اعظمی کا آخری اور
خصوصی خطاب ہونا تھا۔ علامہ صاحب تنظیم کے آفس میں جلوہ افروز تھے۔ اسٹیج پر جانے
سے پہلے جب میں ان کی محفل میں حاضر ہوا تو انھوں نے اپنی روایتی بلند اخلاقی کا
مظاہرہ کرتے ہوئے خوش آمدید کہا۔ علامہ اعظمی کی زیارت کا شرف ہم بار بار حاصل کر
چکے ہیں، لیکن اس بار ہم نے انھیں ایک فکر انگیز کتاب کی طرح پڑھنے اور سمجھنے کی
کوشش کی، واقعی اس نستعلیق جمالیاتی پیکر کی ہر ادا کسی فکری کتاب کی طرح فکر
انگیز نظر آئی اور کتابِ حیات سے زیادہ کتاب کے بین السطور معارف سے لبریز نظر
آئے۔ جب وہ بولتے ہیں تو ان کے لبِوں سے پھولوں کے ساتھ فکروں کے گُہر بھی ٹپکتے
ہیں، جب وہ مسکراتے ہیں تو صرف لب ہی خنداں نہیں ہوتے بلکہ ان کے کتابی چہرے کی ہر
سطر مسکراتی ہے۔ آنکھوں کی جھیل میں حکمتوں کے اسرار تیرتے نظر آتے ہیں اور
درخشاں پیشانی پر عظمتوں کے نشانات بہت دور سے پڑھے جا سکتے ہیں اور خاص بات یہ کہ
گفتگو کسی بھی موضوع پر ہو دل کا رخ تو مدینے کی طرف ہوتا ہے اور پھر باتوں باتوں
میں پوری محفل عشقِ رسول کی خوشبو میں نہا جاتی ہے۔
اگر اس مقام پر ہم ان کے
علمی قدِ زیبا کی بات کریں تو چند جملوں میں اس طرح بیان کر سکتے ہیں کہ علامہ
اعظمی بیک وقت خطیب بھی ہیں ادیب بھی، معلم بھی ہیں، عالمی مبلغ بھی، مفکر بھی
ہیں، حکیمِ امت بھی، نیک سیرت بھی ہیں بلند اخلاق بھی، عاشقِ رسول بھی ہیں، پابندِ
شریعت بھی۔ ورلڈ اسلامک مشن برطانیہ کے جنرل سکریٹری بھی ہیں اور جامعہ اسلامیہ
روناہی انڈیا کے سربراہ بھی۔ یہ اوصاف اورکارنامے علامہ اعظمی کی فکر و شخصیت کی
تنویریں ہیں۔
ذکر تھا علامہ اعظمی کی
محفل کا۔ میں نے اسٹیج پر جانے کے لیے اجازت طلب کی تو فرمانے لگے کہ میں بھی چلتا
ہوں۔ میں نہیں چاہتا تھا کہ وہ اسی وقت اسٹیج پر تشریف لے جائیں۔ میں نے عرض کیا ،
آپ ابھی جاکر کیا کریں گے۔ فرمایا: آپ کی تقریر سنوں گا۔ میرے مختلف لطائف الحیل
کے باوجود علامہ اعظمی صاحب رونقِ اسٹیج ہوہی گئے اور پھرمجھے ان کی موجودگی میں
جبراً تقریر کرنے کا اورمجبوراًشرف حاصل کرنے کا موقع ملا۔ آخری خطاب علامہ اعظمی
نے فرمایا۔ کانفرنس کے اختتام پر جب ہجوم کم ہوا تو مجھے یاد فرمایا اور ایک نعتیہ
مجموعہ بنام ’’خیابانِ مدحت‘‘ عطا فرمایا۔ کتاب کے مصنف کی جگہ ’’قمر الزماں
قمرؔاعظمی‘‘ دیکھ کر میں ورطۂ حیرت میں ڈوبتا چلا گیا۔ میں نے عالمِ حیرت میں کئی
بار کتاب کے چہرے کو ان کے کتابی چہرے سے ملانے کی کوشش کی۔ جب قلبی اطمینان نہیں
ہوا تو پوچھ ہی ڈالا، کیا آپ شاعر بھی ہیں؟ آپ نے نعت نگاری کب شروع کر دی؟
علامہ اعظمی میرے حیرت بھرے تمام سوالات کے جواب میں صرف مسکراتے رہے۔ علامہ اعظمی
تو نعتِ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خوش بو بکھیر کر رخصت ہو گئے، مگر میرے خیالوں
میں غور و فکر کا ایک طوفان چھوڑ گئے۔ میرا ذہن کسی طرح یہ قبول کرنے کے لیے تیار
نہیں ہو سکا کہ خطیبِ اعظم علامہ قمر الزماں اعظمی، قمرؔ اعظمی بھی ہیں۔ ان کے علم
و فن کی بلندی ہمیں تسلیم ہے ۔ ان کے کردار کی عظمت پر قسمیں کھائی جا سکتی
ہیں۔میرا یقین بولتا ہے کہ غسلِ خانۂ کعبہ میں ان کی شرکت و سعادت مقبولیت کی سند
پا چکی ہے۔ وہ بلا شبہہ بارگاہ مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم میں بھی مقبول ہیں، کیوں
کہ اہلِ ایمان کو درون کعبہ تک رسائی کی سعادت و اجازت بارگاہِ مصطفی ہی سے حاصل
ہو تی ہے۔ ان کا عشقِ رسول، ان کا سوزو ساز، ان کا ذوقِ لطیف، لفظوں پران کی
حکمرانی، بدلتے ادبی اسالیب پر ان کی نظر سب کچھ تسلیم، مگر وہ شاعر اور نعت نگار
بھی ہیں، ہزار جبری دباؤکے باوجودذہن اسے قبول کرنے کے لیے آمادہ نہیں۔ کیوں کہ
چچا غالب سے لے کر ڈاکٹر شکیل اعظمی تک جہاں تک میری معلومات کے ہاتھ پہنچے ہیں،
مضبوط سے مضبوط معدے کا شاعر سب کچھ ہضم کر سکتا ہے، مگر اپنی شاعری کو ہضم نہیں
کر سکتا۔ گفتگو مشاہدۂ حق کی کسی بھی مقام پر ہو اور کسی بھی موسم میں ہو، بات
بادہ و مینا تک پہنچ ہی جاتی ہے۔ یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ علامہ اعظمی نے اپنی پوری
شاعری کو ایک طویل عرصہ تک سات تالوں میں بند کر رکھا ہو ،اگر علامہ اعظمی واقعی
شاعر ہیں تو اس پردہ پوشی پر ہم ان کے اس محیر العقول صبر و تحمل کو کرامت ہی کہہ
سکتے ہیں۔ اس طرح علامہ قمرؔ اعظمی کو صرف نعت نگار نہیں بلکہ’’ کراماتی نعت
نگار‘‘ کہنا اور لکھنا چاہیے۔
ان تمام مضبوط دلائل کے
باوجود طبیعت اپنے میزان پرآنے سے قاصر ہے اور بار بار یہی خیال پریشان کیے ہوئے
ہے کہ شاعر ہو اور اظہارِ شاعری نہ ہو، حسن ظاہری ہو یا باطنی دبیز پردوں کے
باوجود اُجالا پھیل ہی جاتا ہے۔ شاعروں کے تعلق سے تویہاں تک مشہور ہے کہ وہ چاے
پلا پلا کر اپنے حلقۂ احباب کو اشعار سناتے ہیں۔ ہم پورے یقین کے ساتھ کہہ سکتے
ہیں کہ علامہ اعظمی نے طویل دورِ شناسائی میں ہمیں نہ کبھی کوئی اپناشعر سنایا اور
نہ کبھی ایک پیالی چاے پلائی…اب جب کہ علامہ اعظمی کی نعت گوئی کا پردہ فاش ہو گیا
ہے تو یہ امید ہو چلی ہے کہ شاید ان کے اشعار سننے کے بہانے چاے نوشی کا موقع بھی
مل جائے۔
میں ابھی اسی ادھیڑ بن میں
تھا کہ اچانک ذہن میں ایک بات آئی۔ در اصل بعض حریفوں نے ہمارے بارے میں یہ مشہور
کر رکھا ہے کہ ہم کبھی بھی کسی شاعر کا شعر صحیح نہیں پڑھتے، محفلِ خاص ہو یا
اجلاسِ عام، شعر پڑھتے ہیں تو یا تو ایک آدھ مصرعہ چھوٹا ہو جاتا ہے یا بڑھ جاتا
ہے۔ بہت ممکن ہے کہ یہ خبر معتبر ذرائع سے علامہ اعظمی تک بھی پہنچی ہو اور انھوں
نے بجاے خود ہمارے بارے میں یہ فیصلہ کر لیا ہو کہ جس طرح ہم شعر خوانی کی صلاحیت
نہیں رکھتے، شعر فہمی کی صلاحیت سے بھی عاری ہوں گے۔ اس لیے انھوں نے قصداً ہمارے
سامنے اپنے اشعار سنانے سے گریز کیاہو، مگر پھر ذہن نے خدشہ ظاہر کیا کہ چلیے صحیح
ہے علامہ صاحب نے اس وجہ سے ہمارے سامنے شعر سنانے سے گریز کیا ہوگا، لیکن کبھی
کوئی ذکر توہو تاکہ علامہ صاحب نے فلاں محفل یا فلاں اجلاس میں اپنے نعتیہ اشعار
سنائے، یا کسی رسالے میں ان کی نعتیں شائع ہوئیں، یا فلاں قوال ان کی نعتیں بڑے
اچھوتے انداز سے پڑھتا ہے۔ بیکلؔ اتساہی صاحب ہی کو دیکھ لیجیے ، اتنے اشعار کہتے
نہیں جتنے سناتے ہیں اور تفصیلات بھی بیان کرتے ہیں کہ ہمارے کلام کو اس قوال نے
خوب پڑھا ہے یا فلاں پاکستانی ملکۂ ترنم نے میرے گیتوں کے ذریعہ بے پناہ مقبولیت
حاصل کی ہے۔ اگر گفتگو کا رخ جبراً  دوسری
جانب نہ پھیرا جائے تو حضرت بیکل اتساہی کی گفتگو بیکلیات پر زلفِ جاناں کی طرح
دراز ہوتی ہی چلی جاتی ہے۔
خیر علامہ اعظمی کے مجموعۂ
نعت نے ہمیں ورطۂ حیرت میں ڈال رکھا ہے اور اب ایک خدشہ اور یہ بڑھ گیا ہے کہ جس
طرح علامہ اعظمی نے اپنی نعت نگاری کو عرصۂ دراز تک پردے میں رکھا ہے، بہت ممکن
ہے کہ اس کے علاوہ بھی انھوں نے اپنی کچھ علمی خدمات یا تصانیف انڈر گراؤنڈ کر
رکھی ہوں۔ اگر ایسا ہے تو ہم علامہ اعظمی سے بصد ادب گزارش کریں گے کہ ان تمام
مخفیات کو اپنے سامنے ہی منظر عام پر پیش فرما دیں، ورنہ بعد میں اہلِ علم و تحقیق
اور اربابِ نقد و ادب کے لیے بڑے مسائل کھڑے ہو جائیں گے۔
علامہ قمر الزماں اعظمی کی
نعت نگاری کے حوالے سے جب ہم نے اپنے ایک مخلص سے تشویش کا اظہار کیا تو انھوں نے
بڑی راز داری کے ساتھ ہمیں یہ مفید مشورہ دیا ۔ خبردار! علامہ اعظمی کی نعت نگاری
کا انکار کرنے یا کسی قسم کا شبہہ ظاہر کرنے کی غلطی مت کرنا۔ ہم نے کہا، اس سے
کون سی قیامت آجائے گی؟ ادبی دنیا میں اس قسم کے بہت سے اختلافات کی مثالیں ملتی
ہیں۔ ہم ابھی اپنا سلسلۂ گفتگو جاری رکھنا چاہتے تھے کہ انھوں نے ہمیں سختی سے
خاموش کر دیا اور ہاتھ پکڑ کر تنہائی میں لے گئے۔ اور کہا آپ جانتے ہیں کہ میرا
کوئی مشورہ بلا وجہ نہیں ہوتا۔ اب سنیے آپ، اس کی پہلی وجہ تو یہ ہے کہ رضا
اکیڈمی ممبئی علامہ قمر الزماں اعظمی کی علمی اور تبلیغی خدمات کے اعتراف میں
۳؍اپریل
۲۰۱۱ء کو ایوارڈ دینے والی ہے۔ اگر رضا اکیڈمی نے علامہ کی
گوناگوں خدمات کے ضمن میں ان کی نعت نگاری کا بھی اعتراف کرلیا تو خاکِ ہند کے
علما اور ادبا بھی انھیں نعت نگار تسلیم کرلیں گے۔ اور آپ اپنے نقطۂ نظر میں
تنہا رہ جائیں گے۔ کیوں کہ رضا اکیڈمی ممبئی ایک مشہور اور معتبر ادارہ ہے۔ اور
آپ جانتے ہیںکہ رضا اکیڈمی کے جنرل سکریٹری جناب سعید نوری صاحب کوئی مناسب موقع
ہاتھ سے جانے نہیں دیتے، اس لیے قرینِ قیاس یہی ہے کہ وہ علامہ اعظمی کی نعت نگاری
کا بھی اعتراف ضرور کریں گے۔
دوسری وجہ یہ ہے کہ آپ
علامہ اعظمی کی ’’نعت نگاری‘‘ کا انکار کریں گے اور یارانِ نکتہ داں اسی وقت لفظ
’’نگاری‘‘ ترک کرکے ایک استفتا ملک کے تمام دارالافتاؤں میں بھیج دیں گے کہ کیا
فرماتے ہیں مفتیانِ شرع متین مسئلۂ ذیل میں کہ زید نے نعت مصطفی کا صریحاً انکار
کر دیا ہے۔ زید ایک عالم دین اور خطیب و قلم کار بھی ہے۔ اب دریافت طلب امر یہ ہے
کہ ان کے پیچھے نماز پڑھنا، انھیں جلسوں میں مدعو کرنا اور ان کی تحریریں پڑھنا
اور ان سے ملنا جلنا کیسا ہے؟ اب آپ جانتے ہیں کہ مفتیانِ زود نویس تمام ضروری
کام چھوڑ کر پہلی فرصت میں آپ کے خلاف حکم صادر فرمائیں گے۔ ہم نے عرض کیا جناب
ہم نے علامہ اعظمی کی نعت نگاری کا انکار کیا ہے، معاذ اللہ نعتِ مصطفی کا انکار
نہیں کیا ہے۔ کہنے لگے، جناب اس وقت یہی ہو رہا ہے۔ ابھی ایک مفتی صاحب نے لکھا ہے
کہ علامہ محمد احمد مصباحی کا مفتی اعظم ہند کو مفتی اعظم ہند ماننے سے انکار ہے ۔
حالاں کہ علامہ مصباحی نے صرف اتنا لکھا تھا کہ مفتی اعظم کا خطاب اعلیٰ حضرت نے
نہیں بلکہ دیگر علما اور اکابر نے دیا ہے۔ہمارے مخلص دوست نے اپنے استدلال کی مزید
وضاحت کرتے ہوئے فرمایا: در اصل اس وقت مفتیانِ کرام کی چارقسمیں ہیں۔ تعلیم و
تربیت یافتہ مفتی، سند یافتہ مفتی، مسند یافتہ مفتی، خود ساختہ مفتی۔ میں نے عرض کیا۔
اس تقسیم کا کیا مطلب ہے؟ فرمانے لگے پہلی اوردوسری قسم کا مفہوم تو ظاہر ہے۔
تیسری قسم میں وہ لوگ ہیں جن کے پاس نہ علم ہے نہ سند بلکہ کسی معروف مفتی کی جگہ
پر قابض ہو گئے ہیں ۔ اور چوتھی قسم میں وہ لوگ ہیں جن کے پاس نہ علمِ افتا ہے، نہ
سندِ افتا اور نہ انھیں اب تک کسی کی مسند مل سکی۔ وہ بقلم خود اپنے کو مفتی لکھتے
ہیں۔ فرمایا کہ انھیں بعد والی دونوں قسموں کی زد میں اگر آپ آگئے تو لینے کے
دینے پڑ جائیں گے۔ہم یہ گفتگو سن کر دیر تک سوچتے رہے اور پھر اپنے بارے میں یہی
فیصلہ کیا کہ خیریت اسی میں ہے کہ علامہ قمر الزماں اعظمی کو قمرؔ اعظمی تسلیم کر
لیا جائے۔ جب ذرا طبیعت مطمئن ہوئی تو ہم علامہ قمر اعظمی کی ’’خیابانِ مدحت ‘‘
کھول کر بیٹھ گئے۔ اب جب مطالعہ شروع کیا تو دل و دماغ کے دریچے کھلنے لگے۔ نعتوں
میں کیف و سوز ، عشق و محبت، ترکیبوں کا درو بست، اسلوب کی سحر بیانی، جذبوں کی
فراوانی، ، خیالوں کی بلندی سب کچھ وہی جو علامہ اعظمی کی تقریروں میںسنتے رہے
ہیں۔ یہ نعتیں تو صد فی صد علامہ اعظمی کے افکار و جذبات کی ترجمان ہیں۔
میں خیابانِ مدحت کے ورق
پلٹتا رہا اور دل و دماغ میں ان کی شاعرانہ عظمتوں کا اجالا بڑھتا رہا۔ نعت نگاری
کے لیے صرف شاعرانہ فن کاری ہی ضروری نہیں بلکہ علم شریعت اور جذبوں کی صداقت بھی
ضروری ہے، اور ان سب کے باوجود ممکن حد تک مقامِ مصطفی کا عرفان اور بارگاہِ مصطفی
کی ادب شناسی بھی ضروری ہے۔ خیابانِ مدحت میں یہ ساری خوبیاں بھر پور نظر آتی
ہیں۔ علامہ قمر اعظمی کی نعتوں میں عصری حسیت کے ساتھ اپنے عہد کے مسلّم مسائل
کوبھی منفرد اور درد مندانہ انداز سے پیش کیا گیا ہے اور غمِ جہاں کو غمِ جاناں
بنا کر مختلف اسالیب میں بارگاہِ رسول میں استغاثہ کیا گیا ہے۔ علامہ اعظمی کی
شاعری میں چست بندشیں بھی ہیں اور لہجے کا بانکپن بھی ، موضوعات و افکار میں جدت
بھی ہے اور مختلف جہتوں میں پھیلاؤ بھی۔ یقینا ایک آفاقی مفکر اگر نعت کہتا ہے
تو اس سے اسی قسم کی توقع رکھنا چاہیے۔ علامہ قمر اعظمی واقعی اکیسویں صدی کے ایک
عظیم نعت نگار ہیں۔ اکیسویں صدی صنفِ نعت کی صدی ہے۔ ’’ظہورِ قدسی‘‘ کے ’’خیابانِ
مدحت‘‘ میں ’’ظہور اعظمی‘‘ بے وقت نہیں بر وقت ہوا ہے، اسی کو کہتے ہیں-دیر آید،
درست آید۔
اب نعتیہ عہد کا تقاضا ہے
کہ قمر اعظمی کی نعت نگاری پر مقالات تحریر کیے جائیں، رسائل و جرائد کے خصوصی
شمارے شائع کیے جائیں ۔خود ہم بھی وعدہ کرتے ہیں کہ ان شاء اللہ علامہ قمرؔ اعظمی
کی نعتیہ شاعری پر لکھیں گے ۔ سر دست پیش ہیں علامہ قمر اعظمی کے خیابانِ مدحت سے
چند منتخب اشعار۔
محمد باعثِ تخلیقِ عالم
بشر پیکر مگر نورِ مجسم
وہ نقشِ اولینِ کلکِ قدرت
نبوت اور رسالت کے وہ خاتم
وہ جن کے دم سے قائم بزمِ
ہستی
وہ جن کے نور سے روشن
دوعالم
سنواری جس نے زلفِ آدمیت
نکھارا جس نے روے ابنِ آدم
بدلتی رُت، بدلتے موسموں
میں
بہارِ جاوداں قانونِ محکم
عطا ہو قومِ مسلم کو دوبارہ
محبت، شوکتِ دیں، جذبِ باہم
——-
میرے افکار ہوں محرومِ ضیا
ناممکن
وہ سکھائیں نہ مجھے طرزِ
ادا، ناممکن
سوے طیبہ درِ دل میں نے
کھلا رکھا ہے
میرے گھر آئے نہ طیبہ کی
ہوا، ناممکن
خانۂ دل میں ہیں مہمان
رسولِ عربی
غیر محرم کوئی آجائے بھلا،
ناممکن
صرف ہمت سوئے آں شاہدِ
اعظم کردم
بے خیال ان کے ہو سجدہ بھی
ادا، ناممکن
ان کی توہین اور امیدِ
شفاعت، توبہ
بے وفاؤں کو ملے دادِ وفا
، ناممکن
میرا دل ٹوٹا تو آواز سنی
دنیا نے
کیا نہ سُن پائیں گے وہ دل
کی صدا، ناممکن
سر ہو، سوداے محبت ہو، تیری
چوکھٹ ہو
ایسے میں دل نہ ہو سجدے میں
جھکا ناممکن
حشر میں جب کہ اُٹھے داغِ
محبت لے کر
پھر قمرؔ پائے نہ جنت کی
فضا، ناممکن
———–
علوم حضرت آدم سے تا دمِ
عیسیٰ
ہر ایک علم مکمل رسولِ اعظم
میں
نقوشِ لوحِ مقدس بہ خامۂ
قدرت
سبھی نقوش ہیں علمِ نبیِ
خاتم میں
نہیں ہے نام و نسب وجہِ شرف
دیں کے بغیر
یہ راز پنہاں ہے اتقیٰ میں
اور اکرم میں
چلے تھے سوے نبی قتل کے
ارادے سے
قتیلِ عشق ہوئے خود ہی دارِ
ارقم میں
تلاشِ امن ہے باطل نظامِ
باطل میں
ملے گا امن تو دینِ رسولِ
اکرم میں
———–
تمھاری یاد نہ ہوتی تو میں
کہاں جاتا
میں کیسے کرتا بھلا زندگی
بسر تنہا
تمھارا ذکر مری زندگی کا
حاصل ہے
اسی سہارے میں کر لوں گا یہ
سفر تنہا
دیارِ سنگ و آہن میں آپ
نے بخشا
دلوں کو آئینہ سازی کا یہ
ہنر تنہا
تمھارے نقشِ کفِ پا کا عکس
دل پہ لیے
ہجومِ کاہکشاں میں رہا قمرؔ
تنہا
٭…٭…٭