تیری حمد و ثنا، رب کون، ومکاں تاب اتنی کہاں ہو زباں سے بیاں

علامہ عزیزؔ الہ آبادی

تیری حمد و ثنا، رب کون، ومکاں
تاب اتنی کہاں ہو زباں سے بیاں
تو ہے مولا مرا، میں ہوں بندہ ترا
کر دے قوت عطا، ہے مری التجا
مجھ کو توفیق دے حمد لکھتا رہوں
دین کی راہ میں، میں ترا دم بھروں
خالق دو جہاں، نور ہی نور ہے
روح میری عبادت سے مسرور ہے
مل گئی مجھ کو ایمان کی روشنی
مٹ گئی کفر و الحاد کی تیرگی
تو نے اک لفظ کن سے بنایا جہاں
ماہ و انجم حسیں قمقمے کہکشاں
مجھ کو چاندی سے الفاظ تو نے دیئے
جن سے کاغذ قلم بھی چمکنے لگے
نور پیدا کیا روشنی کے لئے
اور قرآں دیا رہبری کے لئے