جب سرِ دہر جہالت کا اجارہ نکلا

جب سرِ دہر جہالت کا اجارہ نکلا
علم کے نور کا روشن وہ نظارہ نکلا
ہوا انوارِ تجلی سے ضیا پوش جہاں
رشکِ خورشید سا روشن وہ ستارہ نکلا
نوعِ انساں کے لئے تحفۂ قرآں لایا
جو ہدایت کا عظیم ایک شمارہ نکلا
کفر و الحاد کو دنیا سے مٹانے والا
بے سہاروں کا حقیقت میں سہارا نکلا
آپ تھے ایسے شہنشاہِ دو عالم جن کا
سوکھی روٹی پہ‘ چٹائی پہ گزارہ نکلا
ایک اللہ ہیں معبود محمدؐ ہیں رسول
عارفہؔ سچا یہی دین ہمارا نکلا

عارفہ رخسانہ
10-1-50,StreetCharwadan
P.O/Dt:Siddipet-502103
Mob-9963090280