جب مرے سر پہ کبھی بارِ الم آیا ہے – نور محمد جرال

جب مرے سر پہ کبھی بارِ الم آیا ہے
حوصلہ دینے مجھے اُن کا کرم آیا ہے

برگِ طوبیٰ پہ رقم کرنے کو مدحت ان کی
آبِ کوثر سے وضو کر کے قلم آیا ہے

میری پلکوں پہ سجی ہجرِ نبی کی یادیں
یاد جب اُن کو کیا آنکھوں میں نم آیا ہے

نسبتِ آلِ نبی کا یہ کرم ہے مجھ پر
میرے حصے میں بھی شبیر کا غم آیا ہے

ڈھال بن کر تیری نسبت نے بچایا ہے مجھے
جب مری سمت کوئی تیرِ ستم آیا ہے

میری آنکھوں میں رہا شہرِ نبی کا جلوہ
جب خیالوں میں کبھی باغِ ارم آیا ہے

روشنی کرتی ہے اس دن سے میرے گھر کا طواف
جب سے اِس دل میں ترا نقشِ قدم آیا ہے

دستِ مداح کی خوشبو یہ پتہ دیتی ہے
نعت حضرت کی ابھی کر کے رقم آیا ہے

نور کہتے ہیں اسے یہ ہے غلام ابن غلام
ہاتھ میں لے کے جو مدحت کا قلم آیا ہے

ارمغانِ نیاز از نور محمد جرال