جب کبھی تذکرئہ شہرِ پیمبر لکھنا

جب
کبھی تذکرئہ شہرِ پیمبر لکھنا
قریۂِ
جاں پہ جو اترا ہو وہ منظر لکھنا
ان
کو الفاظ و معانی کا سمندر لکھنا
نعت
کہنی ہو تو پہلے پسِ منظر لکھنا
نقشِ
پا احمدِ مرسل کا میسر ہو اگر
ان
کے ہر نقش کو تم میل کا پتھر لکھنا
ان
کے آنے سے جہاں نور سے معمور ہوا
ان
کے احسان کا تم تذکرہ کھل کر لکھنا
ہو
چکے حج کا فریضہ جو ادا تو مولیٰ
میں
مواجہ کے قریں پہنچوں مقدّر لکھنا
حمد
لکھنی ہے تمہیں حبّ خدا میں خوشدلؔ
نعت
لکھنی ہو تو پھر خوب سنبھل کر لکھنا
 
فرحت حسین خوشدل