جہانِ رنگ و بو میں پھیلی ہیں رعنائیاں مولا

علی آذرؔ (کراچی)

جہانِ رنگ و بو میں پھیلی ہیں رعنائیاں مولا
جمالِ ذات اقدس کی ہیں یہ پرچھائیاں مولا

ہر اک اپنی جگہ پر ہے مکمل کوئی بھی شے مولا
ہراک شے میں ہیں پوشیدہ بہت پہنائیاں مولا

میں قطرہ ہوںسمندر میں کبھی تو مل ہی جائوںگا
مگر پھر بھی ستاتی ہیں مجھے تنہائیاں مولا

مسلماں ہوکے میں بھٹکا ہوا ہوں راہ سے اپنی
کہ دنیا میں خریدی ہیں بہت رسوائیاں مولا

اے رب ذوالمنن مجھ پر کرم کی ایسی بارش ہو
کہ تن من سے مرے برسیں مری سچائیاں مولا

بنایا خاک سے مجھ کو مگر جب غور کرتا ہوں
ہیں میرے جسم و جاں میں کتنی ہی گہرائیاں مولا

علی آذرؔ نگوں سر ہو کے کرتا التجا یہ ہے
کہ اس کے جسم سے مہکیں فقط اچھائیاں مولا