جہانِ نعت کے لئے محترم غلام ربانی فداؔ صاحب کے چند سوالات کا منظوم جواب احمد علی برقی ؔ اعظمی

جہانِ نعت کے لئے محترم غلام ربانی فداؔ صاحب کے چند سوالات کا منظوم جواب
احمد علی برقی ؔ اعظمی
پوچھتے ہیں مجھ سے وہ میرا تعارف کیا کہوں
میرے والد برقؔ تھے اور میں ہوں برقیؔ اعظمی
 
شہرِ اعظم گڈھ ہے یوں تو میرا آبائی وطن
کھینچ لائی شہرِ دہلی میں زبانِ فارسی
 
ریڈیو کے فارسی شعبے سے ہوں اب مُنسلک
ضوفگن ہے برقؔ سے برقیؔ کے فن کی روشنی
 
اردو کی ویب سائٹوں پر کرتا ہوں عرضِ ہُنر
میرا فطری مشغلہ ہے چونکہ عصری آگہی
 
میری خوئے بے نیازی ہے مجھے بیحد عزیز
میرے ادبی ذوق کی مظہر ہے میری شاعری
 
ہوتا میں بھی گر زمانہ ساز تو سب جانتے
ہوں مقامی سطح پر اب تک شکارِ بے رُخی
 
یوں تو ہوں اربابِ دانش میں سبھی سے روشناس
مجھ کو شاید وہ سمجھتے ہیں ابھی تک مبتدی
 
ہیں فصیلِ شہر سے باہر ہزاروں قدرداں
باعثِ ذہنی سکوں ہے اُن سے میری دوستی
 
میرے والد کا تصرف ہے مرا عرضِ ہُنر
ان کے فکر و فن کی ہے میرے سخن میں تازگی
 
جملہ اصنافِ سخن سے یوں تو ہے مجھ کو لگاؤ
ہے یہ ’’یادِ رفتگاں ‘‘وجہہِ نشاطِ معنوی
 
پہلے موضوعاتی تھا عرضِ ہُنر کا دایرہ
میری غزلوں میں بھی ہے جس سے تسلسل آج بھی
 
شاعری کی جان ہے حمدِ خدا نعتِ رسولﷺ
روح کو ہوتی ہے حاصل جس سے اک آسودگی
 
نعت میں حسان بن ثابت کو ہے اک امتیاز
نعت گوئی کا سلیقہ ہے اسی کا مقتضی
 
نعت میں حفطِ مراتب کا ضروری ہے لحاظ
وہ سعادتمند ہے لکھتا ہے جو نعتِ نبیﷺ
 
یہ جہانِ نعت کے ہے کچھ سوالوں کا جواب
ہے فدا ربّانی کا ممنون برقیؔ اعظمی