حاجیاں آمدند با تعظیم شکر از رحمت خدائے رحیم

ناصر خسرو حارث قبادیانی (۳۹۴ء – ۴۸۱)

حاجیاں آمدند با تعظیم

شکر از رحمت خدائے رحیم
حاجی لوگ خدائے رحیم کی رحمت کا شکر کرتے ہوئے احترام کے ساتھ حج سے واپس آئے
آمدہ سوئے مکہ از عرفات

زدہ لبیک عمرہ از تنعیم
عرفات سے مکہ گئے اور تنعیم (نام مقام) سے عمرہ کی لبیک کہی (خدا کی تعریف و کلمات ادا کئے
خستہ از محنت و بلائی حجاز

رستہ از دوزخ و عذاب الیم
مصر حجاز کی تکلیف اور مصیبت اٹھا کر دوزخ اور اس کے دردناک عذاب سے نجات پائی
یافتہ حج و عمرہ کردہ تمام

باز گشتہ بہ سوئی خانہ سلیم
حج اور عمرہ کی تکمیل کرکے سلامتی سے گھر لوٹے
من شدم ساعتی بہ استقبال

پائی کردم برون زحد گلیم
میں بھی اپنی کملی سے پاؤں باہر نکال کر گھڑی بھر کو پیشوائی کے لئے گیا
مرمرا درمیان قافلہ بود

دوستی مخلص و عزیز و کریم
اس قافلہ میں میرا ایک معزز و محترم مخلص دوست تھا
گفتم اورا بگوی چوں رستی

زیں سفر کردن برنج و بہ بیم
میں نے اس سے کہا کہو اس تکلیف و دہشت کے سفر سے کیوکر سلامت آئے؟
ناز تو باز ماندہ ام جاوید

فکر تم را ندامت است ندیم
تم سے جدا ہو کر میں تو برابر پشیمانی سے دوچار رہا
شادگشتم بداں کہ حج کردی

چون تو کس نیست اندریں اقلیم
مجھے خوشی ہے کہ تم نے فریضہ حج ادا کیا۔ تم جیسا شخص آج اس ملک میں نہیں ہے
باز گو تا چگونہ داشتۂ

حرمت آں بزرگوار حریم
یہ تو بتاؤ کہ تم نے اس مقدس حریم (کعبہ) کی تعظیم کا حق کیونکر ادا کیا؟
چوں ہمہ خواستی گرفت احرام

چہ نیت کردی اندر آں تحریم
جب تم نے احترام باندھنا چاہا تو اس وقت کیا نیت کی تھی؟
جملہ بر خود حرام کردہ بدی

ہرچہ مادوں کردگار عظیم
کیا خدائے بزرگ کے علاوہ تم نے ہر چیز اپنے اوپر حرام کر لی تھی؟
گفت نی گفتمش زدی لبیک

از سر علم دار سر تعظیم
اس نے کہا نہیں میں نے کہا جب تم نے علم و احترام کے ساتھ لبیک کہی
می شیدی ندای حق و جواب

باز دادی چنانکہ داد کلیم
تو کیا خدا کی آواز سنی اور کلیم کی طرح اس کا جواب دیا؟
گفت نی گفتمش چو در عرفات

ایستادی دیانتی تقدیم
کہا نہیں۔ میں نے پوچھا جب تم سب سے آگے بڑھ کر عرفات کے میدان میں کھڑے ہوئے
عارف حق شدی و منکر خویش

تبو از معرفت رسید نسیم
تو خدا کے عارف (پہچاننے والے) اپنی خودی کے منکر بھی ہوئے اور تم تک معرفت کی ہوا پہنچی؟
گفت نی گفتمش چومی رفتی

در حرم ہمچو اہل کہف و رقیم
کہا نہیں میں نے کہاجب تم اصحاب کہف کی طرح کعبہ میں داخل ہوئے
ایمن از شر نفس خود پوری

در غم حرقت و عذاب جحیم

تو کیا عذاب دوزخ کے خوف کی برکت سے تم اپنے نفس کے شر سے محفوظ تھے؟
گفت نی گفتمش چو سنگ جمار

ہمی انداختی بہ دیو رجیم
کہا نہیں میں نے کہا جب تم نے شیطان لعین پر کنکریاں پھینکیں
از خود انداختی بروں یکسو

ہمہ عادات و فعل ہای ذمیم
کیا تم نے بری عادات اور برے اعمال اپنے اندر سے نکال پھینکے تھے؟
گفت نی گفتمش چو می کشتی

گو پسند از پی اسیر و یتیم
کہا نہیں میں نے سوال کیا جب تم نے قیدیوں اور یتیموں کی خاطر بھیڑ قربان کی
قرب حق دیدی اول و کردی

قتل و قرباں نفس دون لئیم
تو کیا پہلے قرب خدا حاصل ہوا اور تم نے اپنے پست ذلیل نفس کو بھی قربان کیا؟
گفت نی گفتمش چو گشتی تو

مطلع بر مقام ابراہیم
کہا نہیں میں نے کہا جب مقام ابراہیم پر حاضر ہوئے
کردی از صدق اعتقاد و یقیں

خویشی خویش را بہ حق تسلیم
تو کیا تم نے سچے اعتقاد و یقین سے اپنی ہستی خدا کے سامنے سونپ دی(مٹا دی)؟
گفت نی گفتمش بوقت طواف

کہ دویدی بہروسہ چو ظلیم
کہا نہیں میں نے کہا جب تم طواف میں شتر مرغ کی طرح دوڑ رہے تھے
از طواف ہمہ ملائکیان

یاد کردی بہ گرد عرش عظیم
تو کیا اس وقت تم نے عرش بریں کے گرد فرشتوں کے طواف کا تصور کیا
گفت نی گفتمش چو گردی سعی

از صفا سوئی مروہ بر تقسیم
کہا نہیں میں نے کہا جب تم نے کوہ صفا سے مروہ تک سعی کی (دوڑ کی)
دیدی اندر صفائی خود کونین

شد دلت فارغ از جحیم و نعیم
تو کیا تم نے اپنی صفائے قلب کے اندر دونوں جہان کا نقشہ دیکھا اور تمہارا دل دوزخ و جنت سے بے پروا تھا؟
گفت نی گفتمش چو گشتی باز

ماندہ از ہجر کعبہ دل بدو نیم
کہا نہیں، میں نے کہا جب تم کعبہ کی جدائی سے دل افکار ہو کر وہاں سے لوٹے
کردی آنجا بگور مرخود را

ہمچنانی کنونکہ گشتہ رمیم
تو کیا تم نے اپنے آپ (وجود) کو دفن کردیا جس سے بوسیدہ مردے کی طرح ہوگئے
گفت ازیں باب ہرچہ گفتی تو

من ندانستہ ام صحیح و سقیم
اس نے جواب دیا کہ جو کچھ تم نے کہا اس قسم کی کوئی بات صحیح و غلط میرے علم میں نہیں ہے
گفتی ای دوست پس نہ کردی حج

نہ شدی در مقام محو مقیم
تب میں نے کہا اے دوست اس سے یہ ثابت ہوا کہ تم نے نہ حج کیا نہ مقام فنا پر فائز ہوئے
رفتہ و مکہ دیدہ آمدہ باز

محنت بادیہ خریدہ بہ سیم
تم مکہ گئے اور اسے دیکھ کر واپس آگئے اور الٹا روپیہ دے کر سفر صحرا کی تکلیف خریدی
گر تو خواہی کہ حج کنی پس ازیں

ایں چنیں کن کہ کرد مت تعلیم
آئندہ اگر حج کو جانے کا ارادہ ہو تو جس طرح میں نے تم کو سکھایا ہے اسی طرح عمل کرنا