حافظ کرناٹکی کی نعتیہ شاعری

حافظ
کرناٹکی کی نعتیہ شاعری

غلام
ربانی فداؔ

محترم
حافظ کرناٹکی اپنے علاقے مشہور شاعروں میں سے ہیں۔ انتہائی شگفتہ رو، خوش اخلاق
وخوش مزاج اپنے مکتبِ فکرمتبحر عالمِ دین ہیں۔
باللہ
العظیم مَیںحافظ کرناٹکی کو صرف اور صرف اب تک ادب اطفال کے محافظ سمجھتا رہا۔
مگرحافظ کرناٹکی کے نعتیہ مجموعہائے کلام اور منظوم سیرت  ہاتھ لگنے کے بعد معلوم ہوا کہ آپ ایک بہترین
اور پُر مغز سخن سنج و نعت گو شاعرِ عظیم بھی ہیں۔منظوم سیرت بنام ’’ہمارے نبی‘‘
پڑھتا جاتا تھا اور یہ واقعہ واضح سے واضح تر ہوتا جاتا تھا کہ جب  حضور نبیٔ کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نہاں
خانۂ دنیٰ فتدلّٰی سے واپس آئے اور حضرت کعب ابن ولید رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے
بارگاہِ رسالتمآب میں ایک قصیدہ پیش کیا جس میں انھوں نے معراج شریف کے بعض نہایت
اہم مقامات اور واقعات کا مضمون و مفہوم قصیدے میں نظم کیا تھا۔ قصیدہ سُن کر
صحابہ نے عرض کیا، یا رسول اللہ ﷺ کیا یہ مضامین جو کعب نے نظم کیے، صحیح و درست ہیں؟  اور اگر یہ صحیح ہیں تو کعب کو ان کا علم
کیونکر ہوا؟ رسولِ کریم علیہ الصلوٰۃ والتسلیم نے جواباً ارشاد فرمایا ’’الشعراء
تلامیذ الرحمن‘‘ یعنی (سلیم الطبع) شعرا اللہ تعالیٰ کے (اس کی ذات و شان کے لائق)
شاگرد ہوتے ہیں۔
گو
کہ اصنافِ سخن میں صنفِ نعت گوئی جہاں نہایت پاکیزہ اور نازک و معصوم ترین صنف ہے
اور اس کا کہنے والا قدّوسیوں میں شمار ہونے لگتا ہے، وہیں بے حد مشکل اور جاں گسل
بھی ہے۔ محتاط حضرات کا کہنا ہے کہ نعت کہنا تلوار پر چلنے سے بھی زیادہ مشکل ہے
اس لیے کہ شاعر اگر غلو اور بے احتیاطی میں پھنسا تو توحید کی حدوں تک پہنچ جائے
گا اور عبد و معبود کے فرق کو مٹاتا ہوا نظر آئے گا، جو کھلاہوا کفرعظیم ہے۔ …
اور اگر ممدوح انبیا علیہ التحیۃ والثنا کو منصبِ رسالت اور منزلِ عظمت سے نیچے لے
جانے کی کوشش کرے گا تو زندگی بھر کے اعمال بیکار اور غارت کئے جائیں گے۔
بچوںکے
ادب کے امام حافظ کرناٹکی الحمدللہ اس میدان میں باہوش و محتاط، حلیم الطبع و سلیم
الفکر نعت گو شاعروں کی صف میں نظر آرہے ہیں۔ تعقید لفظی و معنوی دونوں سے بچتے
ہوئے نہایت آسان اور سادگی کے ساتھ اپنے مافی الضمیر کو شعر کی شکل میں پیش کرنے
کا ملکہ حاصل ہے۔ آورد کا تو نام و نشان نہیں، ہر جگہ آمد ہی آمد نظر آتی ہے۔
برجستگی،
سلاست، روانی، فصاحت و بلاغت کا دور دورہ ہے۔ پیچیدہ اور سخت سے سخت مضامین کو اس
آسان تراکیب الفاظ اور خوش اسلوبی سے شعر کے پیکر میں ڈھالتے ہیں کہ وہ مضامین
انہیں محافظت میں ہوکے رہ جاتے ہیں۔ چند اشعار بطور امثال ملاحظہ ہوں   ؎
سنگ
کو سختی گل کو نزاکت دی رب نے
جیسی
تھی جس شئے کوضرورت دی رب نے
مری
دعاؤں پہ آمین کہہ اٹھیں پتھر
کچھ
اس طرح کا زباںمیں اثرعطافرما
کعبۂ
دل سے ہٹائے تونے نفسانی صنم
تیرے
صدقے میںہوئی ہے آدمیت محترم
خاک
کے پتلے کوتونے ماہِ کامل کردیا
بے
سہاروںکو سہارا بے گھروںکوگھردیا
دشمنوںکو
اے حافظ گالیوںکی سرحدسے
رحم
کرکے لاتے تھے وہ دعادامن میں
آگ
یوں تودوزخ کی سراٹھائے گی لیکن
وہ
ہمیں بلالیںگے مسکراکے دامن میں
ایسے
نازک ترین لمحات میں جبکہ اسلام  کے نام
پرعظمتِ توحید کے پردے میں توہینِ رسالت کی گمراہ کن اور ایمان تراش
تحریکیںدشمنانِ اسلام کی کوکھ سے جنم لے رہی ہوں، عظمت و توقیرِ رسالت کا مقدس
پیغام ہرایک عام آدمی تک پہنچانا ایک عظیم فرضِ کفایہ کی ادائیگی کا درجہ رکھتا
ہے۔ زیر نظر مجموعہائے کلام علامہ حافظ کرناٹکی صاحب کی پاکیزہ محامد ونعوت کے
حسین گل دستے ہیں۔ جو موصوف کے حسنِ عقیدت اور بارگاہِ رسالت سے ان کی سچّی اُلفت
و محبت کا آئینہ دار ہے۔ جس میں حافظ کرناٹکی نے ممدوحِ کائنات صلی اللہ تعالیٰ
علیہ وسلم کے محامد و محاسن اور اخلاق و کردار اور سیرت کو ایسے پاکیزہ اور اچھوتے
انداز میں پیش کیے ہیں کہ روح جھوم جھوم اُٹھتی ہے اور بڑی سادگی سے یوں کہتے ہوئے
آگے بڑھتے چلے جاتے ہیں   ؎
اپنی
امت کے ہمراہ ہراک نبی
مصطفی
کی شفاعت کے سائے میں ہے
زمیں
پہ حق کادیا جلایامرے نبی نے مرے نبی نے
حرم
کو سجدوں سے پھرسجایا مرے نبی نے مرے نبی نے
ہمیں
جہنم سے دور کرکے ،خماروحدت میں چورکرکے
بہشت
کا مستحق بنایامرے نبی نے مرے نبی نے
یہ
ان کا احساں ہے مجھ پہ حافظؔ ۔کہ نعت لکھناہواجوممکن
مرے
مقدر کوجگایامرے نبی نے مرے نبی نے
اگر
کوئی غم رسیدہ کبھی کسی غم گسار کے ذریعے غموں سے چھٹکارا پاجاتا ہے، تو زندگی بھر
اسی غم گسار کی طرف اپنے ہجومِ غم میں رستگاری کے لیے اُمید لگائے رکھتا ہے ۔ حافظ
نے اس مضمون کو اپنے ایک شعر میں بطور نعتِ رسول یوں عکس بندی فرمائی ہے    ؎
بس
وہی ہیں مری زندگی کابھرم
وہ
سہارا نہ دیں تو کدھر جاؤں گا
تمام
عمر آپ کے کرم پر
ہمارا
دار و مدار آقا
یہ
ناممکن تھا کہ حافظ کرناٹکی سرورِ کونین صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم کی مدحت
و ثنا کریں اور سرکار کے عاشقوں میں سے کسی کا ذکر نہ کریں۔ کئی اشعار اس بات کی
روشن مثال تھے۔چندیک شعرپیشِ خدمت ہے    ؎
جوذکرشاہ
والامیں سرشار ہوگیا
سمجھوکہ
وہ بہشت کا حقدار ہوگیا
اس
چشمِ خوش نصیب  پہ دوزخ حرام ہے
جس
کو رسول پاک کادیدار ہوگیا
دوزخ
جلاسکے گی نہ حافظ اسے کبھی
نس
نس میں جس نے عشق نبی سمولیا
عشق
نبوی ہے معراج ایمان کی
عشق
ان کا نہ دل سے جداکیجئے
حافظ
کی یہ جرأتِ رندانہ ہے کہ کہیں کہیں تو وارفتگی کے عالم میں مفتیوں کا خوف بھی دل
سے نکال کر شعر کہہ ڈالتے ہیں۔ اس میدان میں شاید ہی انھیں کوئی اپنا ساتھی ملے۔
فرماتے ہیں   ؎
کوہِ
طور چھان آئے  جس کی آس میں موسیٰ
وہ
حسین جلوہ تو،حراکے دامن میں
اللہ
کہہ رہاہے محمد کودیکھ کر
اب
کس کودیکھنا ہے محمد کو دیکھ کر
المختصر
ایں کہ ان مجموعہائے کلام میں عشق کی خوشبو ،عقیدت کی چاشنی ،جذبے کا بہاؤ،در
رسول پہ حاضری کی تڑپ ،فراق وہجر کی داستان ،شفاعت کی طلب ،اپنے پاکیزہ عقیدہ کا
اظہار ،امت مسلمہ کی زبوں حالی پہ دکھ کا احساس ،ان کی طرف نظر کرم کا استغاثہ اور
وہ سب کچھ ہے جو ایک عاشق صادق محبوب کادامن امیدتھامے ہوئے مچل مچل کے کہہ سکتاہے
۔اپنے ان پاکیزہ  جذبات کے اظہار کے لئے
انہوں نے اردو اور فارسی دونوں زبانوں کا وسیلہ لیا ہے اور جس شگفتہ لب و لہجہ اور
شیریں وشستہ انداز میں اپنے افکار کی تجسیم کی ہے اس سے ان کی قادر الکلامی
کا  بخوبی اندازہ ہوتا ہے۔یقین نہ ہو توذیل
کے اشعار دیکھیں
:
ڈرتانہیں
مرنے سے دیوانہ محمدکا
جل
جاتاہے ہنس ہنس کے پروانہ محمدکا
جزوِ
قرآن بنے توریت ،زبو وانجیل
اک
صحیفے نے کیے کتنے صحیفے روشن
لبوںپہ
نام جب ان کا سجالیا حافظ
اندھیری
رات تھی لیکن  ہواسفر روشن
جب
امتی محشرمیں پکاریں گے تڑپ کر
کیا
ہوگا نہ جانے مرے سرکارکاعالم
آئینوںکا
ایمان ہے سرکارکی سیرت
اک
بولتاقرآن ہے سرکاکی سیرت
ہم
لوگ محمد کی تصویر نہیں رکھتے
اعمال
کماتے ہیں جاگیر نہیں رکھتے
جاؤں
میں مدینے  کواور نہ لوٹ کر آؤں
یہ
میری تمنا ہے ،آرزو ہے، خواہش ہے
جب
سے رسول پاک کا چہرا نظرمیں ہے
جنت
نگاہ میں ہے نہ دنیا نظرمیں ہے
میں
صبح  وشام لینا چاہتاہوں
نبی
کا نام لینا چاہتاہوں
علاوہ
ازیں حافظ کرناٹکی کی نعتیہ شاعری میں سرورِ کائنات ﷺ کے خُلقِ عظیم، صبر وشکر،
عفو و درگزر، وسعتِ علم، شفقت و رحمت، سخاوت و ایثار، عزم و استقلال، قوت و شجاعت،
صدق و صفا، عفت و حیا، عدل و انصاف، ذوقِ عبادت، شفاعتِ کبریٰ اور مرتبۂ قربِ خاص
کا صراحت کے ساتھ ذکر ملتا ہے۔ جو حافظ کرناٹکی کے عالمانہ، شاعرانہ اور قائدانہ
تینوں اندازِ فکر کے ساتھ ان کی حبیب ربّ العالمین سے کامل وابستگی، محبت و عقیدت،
عاجزی و فروتنی، وارفتگی و سپردگی کا غمّاز ہے۔
محسن
کاکوروی کا حسنِ تکلّم، امام احمد رضا بریلوی کا عاشقانہ و قلندرانہ ترسیلِ جذبات،
حالیؔ کی حزنیہ لَے، اقبالؔ کی تمازتِ فکر اور عشقِ رسول کا جوش و خروش سب کچھ
نمایاں طور پر محسوس ہوتا ہے۔
ایک
سرسری مطالعے کے لئے چند منتخب اشعار مندرج ذیل ہیں
سارے
نبیوںمیں وہ نرالا ہے
جورسالت
کا اک رسالہ ہے
ہرکسی
کانہیں ہے وہ حصہ
عشق
احمد کاجوپیالہ ہے
ہیں
درپہ نبی کے ہزاروں بھکاری
وہاں
جاکے بن جائے قسمت ہماری
تھا
خوشبو کاپیکر نبی کاسراپا
منورتھا
سورج کی مانند چہرا
مرے
دل میں  عشق نبی کا ہے شور
چلولے
کے مجھ کومدینے کی اور
دوستو
کوئی بے جاستائش نہیں
عشق
احمد ہے یہ کچھ نمائش نہیں
روزوشب
لب پہ ہے میرے صلی  علیٰ
یہ
عقیدت ہے کوئی پرستش نہیں
چرخ
پر جتنے چاند تارے ہیں
نور
احمد کے وہ نظارے ہیں
گھپ
اندھیروں میں روشنی آئی
آپ
آئے تو زندگی آئی
آپ
کے ہلکے سے تبسم سے
گلشنوں
میں  شگفتگی آئی
آپ
کے دم قدم سے خود آقا
خشک
موسم میں بھی نمی آئی
محمد
سا انساں ہو اہے نہ ہوگا
نہ
قرآں سا فرقاں ہواہے نہ ہوگا
محمدنے
رستہ خدا کا دکھایا
گنہگاروں
کی عاقبت کو سنوارا
محمد
کا تھا بوریا ہی بچھونا
محمد
کا امت کی خاطر تھا رو نا
مجموعی
طور پر ’ھافظ کرناٹکی کے نعتیہ شعری مجموعے ایسے ہیں جو سوز و ساز و درد و داغ و
جستجو و آرزو کی ایک تابندہ مثال ہے۔ اُمید ہے کہ دینی اور ادبی حلقوں میں اس کی
خاطر خواہ پذیرائی ہوگی۔