حسنِ تصورات نہ رنگِ تعینات آرائشِ جمال دوعالم ہے بے ثبات

ہلال جعفری

حسنِ تصورات نہ رنگِ تعینات
آرائشِ جمال دوعالم ہے بے ثبات
باقی رہے گا دہر میں خلاقِ کائنات
کس سے بیاں ہوں آیہ تو حید کے نکات
حمدِ خدا کہاں ہے کہاں بندۂ حقیر
نورِ ازل کہاں یہ کہاں ذرۂ حقیر

صحرا میں، گلستاں میں، گلوں کے نکھار میں
شبنم کے آئینے میں رخِ آبشار میں
رنگِ چمن میں، دامنِ لیل و نہار میں
دریا کی موج موج میں اور کوہسار میں
ہر شئے ترے جمال کی آئینہ دار ہے
ہر شئے پکارتی ہے تو پرور دگار ہے

خالق ہے تو جہان کا، مالک جہان کا
تحت الثریٰ کا، عرش کا، ہفت آسمان کا
تیرا پیام دیتا ہے نغمہ اذان کا
اندازہ کوئی کیسے کرے تیری شان شان کا
تیری ربوبیت کی ادا بے مثال ہے
تو ربِّ کائنات ہے تو لازوال ہے

تو بے مثال ہے، نہیں تیری کہیں مثال
کون و مکاں کا حسن ترا پرتوِ جمال
تخلیق دوجہاں تری قدرت کا اک کمال
دنیائے بے ثبات کی ہر شئے کو ہے زوال
اے شانِ لم یزل! ہے بقا تیری ذات کو
فانی ہے کائنات، فنا کائنات کو

صحنِ چمن کو پھول دیئے پھول کو مہک
غنچوں کو عندلیب کے دل کو ملی کسک
دامانِ شب میں ڈال دی مہتاب کی دمک
تو وہ کہ دن کو بخش دی خورشید کی چمک
تیرے کرم نے بدر بنایا ہلال کو

تاریکیوں کی زد سے بچایا ہلال کو