حسنِ پری اک جلوۂ مستانہ ہے اس کا ہشیار وہی ہے کہ جو دیوانہ ہے اس کا

حیدر علی آتش

حسنِ پری اک جلوۂ مستانہ ہے اس کا
ہشیار وہی ہے کہ جو دیوانہ ہے اس کا

گل آتے ہیں ہستی میں عدم سے ہمہ تن گوش
بلبل کا یہ نالہ نہیں، افسانہ ہے اس کا

گریاں ہے اگر شمع تو سر دھنتا ہے شعلہ
معلوم ہوا سوختہ پروانہ ہے اس کا
وہ شوخ نہاں گنج کی مانند ہے اس میں
معمورۂ عالم جو ہے ویرانہ ہے اس کا

یوسف نہیں جو ہاتھ لگے چند درم سے
قیمت جو دو عالم کی ہے بیعانہ ہے اس کا

وہ یاد ہے اس کی کہ بھلا دے دو جہاں کو
حالت کو کرے غیر وہ یارانہ ہے اس کا

شکرانہ ساقیٔ ازل کرتا ہے آتشؔ
لبریز مئے شوق سے پیمانہ ہے اس کا