حضور اپنے مجھے طرف عرض حال بھی دے مرے طلب کو کبھی مژدۂ وصال بھی دے

جلّ شانہ
حضور اپنے مجھے طرف عرض حال بھی دے
مرے طلب کو کبھی مژدۂ وصال بھی دے
ترے کرم کی تمنا تو جزو ایمان ہے
اے لازوال! سم یاس کو زوال بھی دے
میں ایسے تڑپوں کہ رحمت کو جوش آجائے
کمال عرض ہنر، کرب انفعال بھی دے
جہان عشق میں میں سر بلند ہوجاؤں
شعور عشق کو اب عظمت خیال بھی دے
عطا کیا ہے بصارت کا جو کمال مجھے
نظر کو جرأت نظارۂ جمال بھی دے
میں تیرے بحر کرم میں ہوں تشنہ کام حیات
ہے بے پناہ تو حسرت مری نکال بھی دے
ترے حبیب کا ادنی غلام ہے ابرارؔ
اسے غلامی کے کردار کا کمال بھی دے
(از’’ و ایاک نستعین‘‘)
ژ