حضور ہی ہیں چراغ وحدت، درود ان پر سلام ان پر

حضور
ہی ہیں چراغ وحدت، درود ان پر سلام ان پر
زباں
پہ میری ہے ان کی مدحت، درود ان پر سلام ان پر
ملی
ہے ان سے رہ ہدایت، درود ان پر سلام ان پر
مرے
نبی ہیں شفیع امت، درود ان پر سلام ان پر
جو
سارے نبیوں کے پیشوا ہیں، تمام عالم کے رہنما ہیں
خدا
کی نعمت ہے ان کی بعثت، درود ان پر سلام ان پر
تمام
عالم پہ مہرباں ہیں، وہ رحمت حق کے پاسباں ہیں
کتاب
دیتی ہے یہ شہادت، درود ان پر سلام ان پر
وہ
جن کو رب سے عطا ہوئی ہے تمام عالم کی رہنمائی
ہے
جن کی باتوں میں علم و حکمت، درود ان پر سلام ان پر
عمل
کا عویٰ نہیں ہے میرا، شفیع محشر پہ ہے بھروسہ
باذن
ربی کریں شفاعت، درود ان پر سلام ان پر
ہے
لب پہ نعت نبی کا نغمہ، زبان و دل پر ہے ان کا کلمہ
ہر
ایک دل میں ہے ان کی چاہت، درود ان پر سلام ان پر
مرے
نبی کے کرم کا سایہ، ہے جیسے نعمت کا بہتا دریا
تمام
عالم پہ ان کی رحمت، درود ان پر سلام ان پر
جو
سبز گنبد کے پاس پہنچے، تو یاد آئے نبی کے مژدے
کریں
گے ہم سب کی وہ شفاعت، درود ان پر سلام ان پر
دعائیں
دیں جس نے دشمنوں کو، قبائیں دیں جس نے قیدیوں کو
ہے
دل میں خوشدل بس ان کی عظمت، درود ان پر سلام ان پر
فرحت حسین خوشدل