حمد باری تعالی کے تقریباً سات سو سالہ ارتقائی سفر کی جھلکیاں

اس پورے مضمون میں پہلے حمد باری تعالی کے تقریباً سات سو سالہ ارتقائی سفر کی جھلکیاں پیش کی گئی ہیں۔ حمد کی اہمیت بیان کی گئی ہے جس کو عبادت کا درجہ دیا گیا ہے۔ قرآن پاک میں حمد باری تعالی سے متعلق آیات مقدسہ بھی پیش کی گئی ہیں۔ دعا کی اہمیت آیات قرآن کی روشنی میں اور رسول کریم ﷺ کی احادیث بھی بیان کی گئی ہیں۔ قارئین ’’الا ہو‘‘ کے صفحات میں ہمارے متقدمین، متوسطین اور دور حاضر کے شعراء کرام کے حمدیہ و مناجاتی کلام کو پڑھ کر زبان کے بتدریج ارتقاء اور حمد و مناجات کے بدلتے لہجوں سے بھی واقفیت حاصل کرسکیں گے۔
اس سے بیشتر بھی میں نے عرض کیا تھا کہ بر صغیر کے پڑوسی ملک پاکستان میں ’’حمد‘‘ پر اب کافی کام ہو رہا ہے۔ وہاں مختلف انجمنیں کام کر رہی ہیں، پرچے نکل رہے ہیں ’’جہان حمد‘‘ کا کتابی سلسلہ خاص شمارہ محامد و مناجات کا بیش بہا خزانہ خود میں رکھتا ہے اور پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ اس نہج پرہندوستان میں بھی کام ہونا چاہئے۔ یہاں دہلی میں حمد ونعت اکیڈمی نے اس سلسلے میں کام کرنے کا ارادہ کیا ہے جو انشاء اللہ ضرور پورا ہوگا۔ اس اکیڈمی کے اغراض و مقاصد میں حمد و نعت کا فروغ خاص طور پر قابل ذکر ہے۔ ہم نے اس سلسلے میں ماہانہ طرحی نشستیں اب سے دس گیارہ برس پہلے شروع کی تھیں جس کا سلسلہ جاری ہے۔
کتاب ہذا ’’الا ہو‘‘ انتخاب حمد ومناجات پیش کرتے ہوئے قارئین کرام سے درخواست ہے کہ احقر کو اپنی بیش قیمت آراء سے آگاہ فرمائیں۔
یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ جب میں نے یہ انتخاب شائع کرنے کا ارادہ کیا تو اس کتاب کا نام ’’ایاک نعبد‘‘ تجویز کیا اور اس کے بارے میں حضرت آیۃ اللہ عقیل الغروی صاحب قبلہ سے ان کی معتبر رائے کا متمنی ہوا۔ حضرت نے فرمایا کہ اس کتاب کا نام ’’الا ہو‘‘ رکھیں اور چونکہ آپ اس میں محامد و مناجات شامل کر رہے ہیں تو محامد کے حصہ کو ’’ایا ک نعبد‘‘ لکھیں اور مناجات کے حصہ کو ’’وایاک نستعین‘‘۔ بحمد للہ ’’الا ہو‘‘ اللہ کے فضل و کرم سے طبع ہوکر حاضر ہے۔ میں حضرت آیۃ اللہ عقیل الغروی صاحب کی خدمت میں جذبات تشکر و امتنان پیش کرتا ہوں کہ کتاب کا نام حضرت کی تجویز پر ’’الا ہو‘‘ رکھا گیا جسے سب نے پسند کیا۔
ہندوستان میں نعتیہ کلام کے تو کئی انتخاب شائع ہوئے لیکن حمدیہ کلام کا انتخاب پیش کرنے کی سعادت اس احقر کو حاصل ہورہی ہے۔ جہاں تک حمد باری کہنے کا تعلق ہے اس میں شاعروں کے تمام آداب کا خیال رکھتے ہوئے حمد و ثنا تعریف و توصیف اس طرح کی جائے کہ اس کی ربوبیت اور الوہیت کی عظمت کا برملا اظہار ہو اور وہ تمام معائب شعری سے پاک اور محاسن شعری سے مزین ہو۔
کتاب ہذا میں بر صغیر ہند و پاک سے متعلق شعراء کرام نیز اردو دنیا کے مختلف ملکوں میں رہنے والے محترم شعراء کی محامد و مناجات شامل ہیں۔ میں نے شروع میں عربی اور فارسی محامد اور مناجات بھی شامل کی ہیں۔ میں ان تمام شعراء کا شکریہ ادا کرتا ہوں جنہوں نے میری درخواست کو شرف قبولیت بخشتے ہوئے دیگر شعراء سے بھی محامد و مناجات بھجوائیں۔ میں نے اس مضمون میں ڈاکٹر سید یحیٰ نشیط کی کتاب ’’اردو میں حمد و مناجات سے حوالے دیے ہیں، علاوہ ازیں گورنمنٹ کالم لاہور کے نعت نمبر ’’اوج‘‘ اور کراچی کے جہانِ حمد سے بھی استفادہ کیا ہے۔
دعاؤں کا طالب: