اردو میں مناجات

’’اردو میں مناجات‘‘
حمد و مناجات کا مطالعہ کرنے سے پہلے ہمیں حمد اور مناجات کے فرق کے بارے میں معلومات ہونی چاہئیں۔ ’’حمد‘‘ عربی زبان کا لفظ ہے جس کے لغوی معنی تعریف کرنا اور سراہنا ہیں۔ عربی اور انگریزی زبانوں کے قواعد کے مطابق کسی لفظ کو مخصوص کرنے کے لیے عربی میں ’’ال‘‘ اور انگریزی میں ”The” لگا کر مخصوص کردیا جاتا ہے۔ قرآن مقدس میں ’’سورہ‘‘ فاتحہ اس کی واضح مثال ہے۔ اس سورہ کو ہم الحمد شریف بھی کہتے ہیں۔ الحمد کے معنی ہیں خاص تعریف۔ اور لفظ للہ کے معنی ہیں اللہ تبارک و تعالی کے لیے۔ اس کا مطلب صاف ہوا کہ خاص الخاص تعریف اس ذات باری کے لیے مختص ہے۔ ’’مناجات‘‘ بھی عربی کا لفظ ہے اس کے معنی کان میں بات کرنا ہیں۔ چنانچہ جب ہم اللہ تعالی سے مانگتے ہیں تو وہی مناجات ہے کہ اللہ قاضی الحاجات ہے اور ہماری جملہ ضروریات پوری فرماتا ہے۔ ہم اس کی عبادت کرتے ہیں او ر استعانت بھی اسی سے چاہتے ہیں۔ شعراء جب اللہ تعالی کی توصیف و ثنا اپنے اشعار میں کرتے ہیں تو اردو شاعری کی اصطلاح میں اسی کو ’’حمد‘‘ کہا جاتا ہے اور بندہ رب العزت سے کچھ مانگتا ہے دعا کرتا ہے تو ایسی شاعری کو ’’مناجات‘‘ کہتے ہیں۔
اللہ تبارک و تعالی۔ رب العالمین کے حضور سر خم ہونا۔ اور اس پاک بے نیاز اور ارحم الراحمین سے استعانت چاہنا۔ عبدیت کا طرۂ امتیاز ہے۔ یہی ایمان کامل ہونے کی دلیل ہے کہ بندہ عاجز قاضی الحاجات سے مناجات یعنی دعا کے ذریعہ استعانت طلب کرے۔ جب خشوع خضوع اور بصد تضرع اس رحمن و رحیم کے حضور اضطرار اور عجز کے ساتھ حاجات پیش کی جاتی ہیں تو اس کی رحمت جوش میں آتی ہے اور دعا مقبول بارگاہ ہوتی ہے۔
کون سا انسان ایسا ہے جو اپنی زندگی میں مسائل اور مشکلات سے دو چار نہیں ہوتا۔ جو اس کے بندے ہیں جنہیں اس کے بندہ و غلام ہونے کا دل سے اقرار ہے ان کے سامنے مصائب، آلام مشکلات اور پریشانیاں ٹھہر نہیں پاتیں۔ اپنے رب سے دعا کے ذریعہ ہر دکھ اور پریشانی سے نجات حاصل کرلیتے ہیں۔ انسان طبعی طور پر عبدیت اور عبودیت کا خوگر ہے۔