حمد ہے میری زباں پہ تیری اے پروردگار

حمد ہے میری زباں پہ تیری اے پروردگار
رحمتوں کا تیری صبح و شام ہوں امیدوار
قاضی الحاجات ہے تو یہ مرا ایمان ہے
بندۂ عاجز پہ تیرا کس قدر احسان ہے
ساری مخلوقات کا داتا ہے تو محتاج ہم
ہم گنہگاروں پہ برساتا ہے تو ابر کرم
نام سے تیرے سخن کی کی ہے میں نے ابتدا
حمد گوئی کو ہے بخشا تونے میری حوصلہ
تونے شیرینی عطا کی ہے مری گفتار کو
بااثر تو نے کیا ہے جرأت اظہار کو
بخش دی تو نے مجھے حسن تخیل کی ضیا
ذہن و دل روشن کئے ہیں دے کے ذوق ارتقا
دل میں علم و آگہی کی روشنی باقی رہے
فکر میں گوہرؔ کی دائم تازگی باقی رہے

گوہرؔتری کروی میسور