حکمت و صناعی کس کی آج ہے وردِ زباں چشمِ حیرت دیکھتی ہے کس کی قدرت کا سماں

لیثؔ قریشی(کراچی)

حکمت و صناعی کس کی آج ہے وردِ زباں
چشمِ حیرت دیکھتی ہے کس کی قدرت کا سماں

کس کے احسانات کے ہم روزوشب ممنون ہیں
زیرپا کس کی زمیں ہے سر پہ کس کا آسماں

ہے نظام گردش شمس و قمر میں کس کا ہاتھ
کس کی صنعت کے مظاہر ماہ و انجم کہکشاں

رکھ دیا بطن صدف میں کس نے دُرِّ شاہوار
ابرنیساں کس کے فضل خاص کا ہے ترجماں

بہر تعمیرات دیں کس نے زمیں کی وسعتیں
اور سفینوں کے لئے پھیلائے بحر بیکراں

اپنی وحدت کا دیا کس نے ہمیں آخر شعور
کس نے کھولا ہم پہ اپنی ذات کا سرنہاں

کوئی سمجھے یا نہ سمجھے، جز میں کل کی بات ہے
ساری تخلیقات کی مالک خدا کی ذات ہے