حیات مہنگی، ممات سستی ہے کیسا قہرووبال یارب کہیں توآکرہوختم آخر،یہ دورحزن و ملال یارب

منظورالحسن منظورؔ

حیات مہنگی، ممات سستی ہے کیسا قہرووبال یارب
کہیں توآکرہوختم آخر،یہ دورحزن و ملال یارب
یہ چینچی میں عتاب روسی، یہ بوسنی میں لہوکے دریا
ہے خوں میں ڈوباہوافلسطیں،یہ کیسا طرز رجال یارب
نکل کے بدرواحدسے آگے،یہ آئے ہیں کربلا سے غازی
تھکے ہیں سارے ہی آبلہ پا، تو آکے ان کو سنبھال یارب
چلے ہیں سرسے کفن کوباندھے،صلیب کاندھوں پہ لے کے اپنے
زباں پہ تیرا ہے ذکرپیہم،نظرمیں تیرا جمال یارب
دلوں میں خیرالبشرکی عظمت،ادامیں قرآں کابانکپن ہے
یہی تو ہے زادِراہ اپنا،یہی ہے مال ومنال یارب
یہ جوش صہبائے عشق احمد،کہ زیرخنجربھی کہہ رہے ہیں
لہوسے ہوکرہی سرخ رواب،ملے گا تیرا وصال یارب
بناہے مشق ستم فلسطیں مجاہدوں پرہے وجدطاری
زباں پہ ہے لاالہٰ ان کی،یہی ہے ان کاکمال یارب
زمیں فلسطیں کی منتظرہے،کہ کوئی ایوب پھرسے آئے
ہے ارضِ اقصیٰ کاتیرے درپر،درازدست سوال یارب
اے رب کعبہ تو مقتدرہے،توخالق کل جہاں ہے مولیٰ
عطا ہو صبروعمل کی قوت،کہ ہوگئے ہیں نڈھال یارب
ہے شش جہت میں تری ہی خاطر،صدائے لبیک سب کے لب پر
دعاہے شام وسحر کہ رکھیو،ہماری عزت بحال یارب
دعاہے منظورؔناتواںکی جہاں میں امن واماں ہومولیٰ
ستم گروں سے ملے رہائی،دکھادے اپنا جلال یارب