خدایا دین کی عزت ہو جان سے اوپر کروں نہ فیصلہ کوئی قرآن سے اوپر

ڈاکٹرنثارجے راجپوری

خدایا دین کی عزت ہو جان سے اوپر
کروں نہ فیصلہ کوئی قرآن سے اوپر

اب اور کتنا اٹھائے گی قوم یہ ذلت
دوبارہ کردے اسے پھر جہان سے اوپر

سفینہ ڈوب نہ جائے ہوائیں برہم ہیں
ہوائوں کو تو اٹھا بادبان سے اوپر

نہ دین پاس ہے اپنے نہ علم ہے نہ ہنر
ہماری زندگی کردے ڈھلان سے اوپر

خدا کا خوف بسائے رہو تصور میں
نہ خود کو رکھو کبھی آسمان سے اوپر

نثارؔ دین کی عظمت رہے نگاہوں میں
سدا رکھو اسے دونوں جہان سے اوپر