خدا ایک ہے اس کا کوئی نہیں جہاں میں کوئی اس کا ساجھی نہیں

صوفی تبسمؔ

خدا ایک ہے اس کا کوئی نہیں
جہاں میں کوئی اس کا ساجھی نہیں
نہیں اس کی کچھ ابتدا انتہا
سدا سے وہ ہے اور رہے گا سدا
اسی نے بنایا ہے سارا جہاں
یہ چاند اور سورج زمیں آسماں
ہمیں اس نے مٹی سے پیدا کیا
جو کچھ ہم کو در کار تھا سب دیا
ہمیں بخشی ہیں اس قدر نعمتیں
جنہیں چاہ کر بھی نہ ہم گن سکیں
ہے واجب کہ اس کی عبادت کریں
شب و روز اس کے غضب سے ڈریں
مدد سب کی کرتا ہے وہ چارہ ساز
ہم اس کے ہیں بندے وہ بندہ نواز