خدا تجھ کو شاہی سزاوار ہے صفت کو تری کچھ نہ آکار ہے

لالہ پیم چند

خدا تجھ کو شاہی سزاوار ہے
صفت کو تری کچھ نہ آکار ہے

ترا نام روشن زباں پر دھرے
تو باہر و بھیتر اجالا کرے

جو صادق ترے نام پر ہے مدام
تو ہے اس کنے رات دن، صبح وشام

مقرر ہے درپن کا خاصہ تجھے
جو جس طور دیکھے اسے تیوں سمجھے

تو نے جگ دکھایا، بے تو نا دکھے
جیوں آنکھوں سے سب دکھ نہ انکھی دکھے

تو ہے مشک نافہ، مثل تن منے
ہرن جھول کر کھوجتی بن منے

کرے تو مدد تو ہے آساں سبھی
دہی کو متھے پر نکلتا ہے گھی