خدا خدا خدا خدا چمن میں صبح دم سدا گلوں کے درمیاں صبا

اسماعیل پروازؔ (ہاؤڑا)

خدا خدا خدا خدا
خدا خدا خدا خدا
چمن میں صبح دم سدا
گلوں کے درمیاں صبا
بکھیرتی ہے یہ ندا
خدا خدا خدا خدا
خدا خدا خدا خدا
یہ کارگاہِ زندگی
کبھی تو غم کبھی خوشی
ترا کرم تری عطا
خدا خدا خدا خدا
خدا خدا خدا خدا
زمیں سے آسمان تک
مکاں سے لامکان تک
ہے گونجتی یہی صدا
خدا خدا خدا خدا
خدا خدا خدا خدا
تری ثنا کروں یہاں
سدا زباں پہ ہوں رواں
ترا ہی ذکر مرحبا
خدا خدا خدا خدا
خدا خدا خدا خدا
فضائے رنگ و بو میں بھی
قبائے آرزو میں بھی
ترا ہی حسن دلربا
خدا خدا خدا خدا
خدا خدا خدا خدا
گلوں کی دلکشی میں تو
پھلوں کی چاشنی میں تو
تو مہر و ماہ کی ضیاء
خدا خدا خدا خدا
خدا خدا خدا خدا