خدا کا نام لے کر راہِ حق میں جب بھی ہم نکلے

خدا کا نام لے کر راہِ حق میں جب بھی ہم نکلے
تری نصرت سے باطل قوتوں کے پیچ و خم نکلے
ھُواللّٰہُ اََحَد   کے  نور  نے  مجھ  کو  جِلا  بخشی
جبیں روشن ہوئی ، دل سے سبھی جھوٹے صنم نکلے
کچھ ایسا رنگ مجھ پر بھی چڑھا دے اے مرے مولا!
’’تری یکتائی کا اقرار لب سے دم بدم نکلے‘‘
تُو واحد ہے صمد تُو ہے ترا ثانی نہیں کوئی
یہی پیغام لے کر شاہِ دیںﷺ شاہِ اممﷺ نکلے
فقط اک ضربِ الا للہ کی تاثیر یہ دیکھی
جہانِ کفر کے ظلمت کدوں کے سارے خم نکلے
جنہوں نے گردنیں خم کردیں تیرے حکم پر مولا!
تری توحید کی عظمت کا لے کر وہ علَم نکلے
جو بندے ہیں ترے احکام پر دل سے عمل پیرا
مقرّب ہوگئے وہ حاملِ لطف و کرم نکلے
اٹھایا پرچمِ حمدِ خدا جس روز سے طاہرؔ
کِھلیں کلیاں محبت کی دلِ محزوں سے غم نکلے

طاہرسلطانی کراچی