خدا یا تو خالق ہے مالک ہے میرا میں بندہ ہوں مسکین و محتاج تیرا

شیخ منظور علی

خدا یا تو خالق ہے مالک ہے میرا
میں بندہ ہوں مسکین و محتاج تیرا
اگر سب سمندر بنیں روشنائی
زمیں کے شجر سب قلم ہوں سراپا
جہاں بھر کے انسان لکھنے کو بیٹھیں
ادا حق نہ ہو پھر بھی تیری ثنا کا
تر ی شان اقدس ہے لیس کمثلہ
تری ذات ہے لا شریک اور یکتا
خدایا نہیں کوئی ملجا ترے بن
نہیں جز ترے اور کوئی سہارا
تو میری رگِ جاں سے نزدیک تر ہے
دعا بیکسوں کی تو سنتا ہے مولا
سنور جائیں اخلاق و اعمال میرے
نبیؐ کی اطاعت ہو معمول میرا
رضا تیری ہر چیز پر ہو مقدم
رہے دھیان ہر آن تیری خوشی کا
تو غفار ہے اور منظور عاصی
کرم کر، کرم، کرم کر، خدا یا