خواہش مجھے کہاں ہے کہ کوئی قمر ملے تاعمر تیری حمد لکھوں وہ ہنر ملے

طاہرؔ سلطانی

خواہش مجھے کہاں ہے کہ کوئی قمر ملے
تاعمر تیری حمد لکھوں وہ ہنر ملے

باغِ جہانِ حمد کے صدقے میں اے خدا!
حمدوثنا سے مہکا ہوا ہر شجر ملے

خونِ جگر سے حمد کی شمعیں جلائوں میں
توفیق اس کی خالقِ عالم اگر ملے

جیسا ترا حبیبؐ ہے اے ربِّ کائنات
ممکن نہیں کہ دوسرا ایسا بشر ملے

سمجھوں گا دوجہاں کی ملیں مجھ کو نعمتیں
دربارِ مصطفیؐ کی جو شام و سحر ملے

میرے کریم مجھ پہ کرم یہ بھی کیجئے
میری دعائے خیر کو بابِ اثر ملے

حمدوثنا کی روز سجائے یہ محفلیں
طاہر کو اے کریم کوئی ایسا گھر ملے