’’خوشبوئوں کا سفر‘‘ حمدیہ و نعتیہ تذکروں کی بہاریں…ایک اجمالی جائزہ

’’خوشبوئوں کا سفر‘‘
حمدیہ و نعتیہ تذکروں کی بہاریں…ایک اجمالی جائزہ

طاہرؔ سلطانی

عمومی طور پر تو ہندوستان میںتذکرہ نویسی کا آغازمیرتقی میر کی’’ نکات الشعراء ‘‘سے ہوا ہنوز یہ سلسلہ جاری و ساری ہے۔تاہم اس امرکا جائزہ لینا ہے کہ دینی ادب خصوصاً حمدیہ و نعتیہ ادب میں تذکرہ نگاری کی صورت حال کیا ہے۔
ہماری توجہ اس جانب برادرم شہزاد احمد نے مبذول کرائی۔ سو ہم آسانی سے دستیاب شدہ حمدیہ و نعتیہ تذکروں کا اجمالی جائزہ پیش کرنے کی سعادت حاصل کررہے ہیں۔مگر مجھے افسوس ہے کہ میں ڈاکٹر طلحہٰ برق اور جناب راجا رشید محمود کے تذکروں تک رسائی حاصل نہ کرسکا آئندہ ہردو حضرات کی کتابوں پر ضرور لکھوں گا(انشاء اللہ)۔اُردو نعتیہ ادب میںباقاعدہ پہلا ’’تذکرہ نعت گو شعرا‘‘ رفیع الدین اشفاق(بھارت) کا ہے۔
یہ ان کا پی ایچ ڈی کا مقالہ ہے جو پچاس کی دہائی میں لکھا گیا۔
اس کے بعد ۱۹۷۴ء میں بیک وقت ۲ کتابیں ڈاکٹر طلحہ رضوی برق کی ’’اردو کی نعتیہ شاعری‘‘ اورڈاکٹر فرمان فتح پوری کی ’’اردو کی نعتیہ شاعری‘‘ پاکستان اور بھارت سے شائع ہوئیں۔
نعتیہ تذکروں کے حوالے سے ڈاکٹر ریاض مجید (پی ایچ ڈی مقالہ)،پروفیسر ڈاکٹر آفتاب احمد نقوی،علامہ اختر الحامدی،حفیظ تائب،علامہ شمس بریلوی،ڈاکٹر عبداللہ عباس ندوی، راجا رشید محمود،پروفیسر یونس شاہ، ڈاکٹر ابو سلمان شاہ جہاں پوری،ڈاکٹر شمس بدایونی،ڈاکٹر شاد رشاد عثمانی ،ڈاکٹر انعام الحق کوثر،ڈاکٹریحییٰ نشیط،پروفیسر شفقت رضوی،خالد شفیق،حمایت علی شاعر ،گوہر ملسیانی،اقبال نجمی ، نور احمد میرٹھی،شہزاد احمد، قمر وارثی ، سید محمد قاسم ،رئیس احمداور راقم طاہر سلطانی کے نام سامنے آئے ہیں۔
تذکرہ گوئی بڑے جان جوکھوں کا کام ہے اور جب بات ہو حمد و نعت کی تو پھر یہ کام مزید مشکل ہوجاتا ہے۔قربان جائیے ربّ ذوالجلال کی شان کریمی کے وہ جس سے جو چاہے کام لے۔ خوش نصیب ہیں یہ حضرات جن کے نام سطورِ بالا میں بیان ہوئے ہیں کہ اللہ ربُّ العزت نے انہیں پاکیزہ و منزہ اصناف کی ترویج و اشاعت کی سعادت سے نوازا۔
٭٭٭٭٭