خوشبو ہے دو عالم میں تیری اے گُلِ چیدہ

خوشبو ہے دو عالم میں تیری اے گُلِ چیدہ
کس منہ سے بیاں ہوں تیرے اوصافِ حمیدہ

سیرت ہےتیری جوہرِ آیئنہ تہذیب
روشن تیرے جلووں سے جہانِ دل و دیدہ

ہے طالب ِ الطاف میرا حالِ پریشاں
محتاجِ توجہ ہے میرا رنگ ِ پریدہ

مضمر تیری تقلید میں ہے عالم کی بھلائی
میرا یہی ایماں ہے ، یہی میرا عقیدہ

تجھ سا کوئی آیا ہے نہ آئے گا جہاں میں
دیتا ہے گواہی یہی عالم کا جریدہ

خیرات مجھے اپنی محبت کی عطا کر
آیا ہوں تیرے در پہ بہ دامانِ دریدہ

تُو روحِ زمن، رنگِ چمن، ابرِ بہاراں
تُو حسنِ سُخن ، شانِ ادب، جانِ قصیدہ

اے رحمتِ عالم ﷺ تیری یادوں کی بدولت
کس درجہ سکوں میں ہے میرا قلبِ تپیدہ

اے ہادی ِ بر حقﷺ تری ہر بات ہے سچی
دیدہ سے بھی بڑھ کر ہے تیرے لب سے شنیدہ

یوں دور ہوں تائب میں حریمِ نبوی ﷺسے
صحرا میں ہو جس طرح کوئی شاخِ بریدہ

حضرت سیدّنا عبدالحفیظ تائب رحمتہ اللہ علیہ