’’خیابانِ مدحت‘‘ پر ایک نظر

’’خیابانِ مدحت‘‘ پر ایک نظر

ڈاکٹر سید حسن مثنیٰ انور
علیگ،

شہزادۂ حضور محدثِ اعظم
علیہ الرحمہ، لکھنؤ

آج ایک شعری مجموعہ
’’خیابانِ مدحت‘‘ میرے سامنے ہے جو حمد و نعت اور منقبت پر مشتمل ہے اور جس کے
تخلیق کار مولانا محمد قمرالزماں قمرؔ اعظمی ہیں۔ مولانا قمرالزماں کے نام اور کام
سے گذشتہ چند سالوں سے خوب واقف ہوں۔ البتہ قمرؔ اعظمی سے پہلی بار متعارف ہو رہا
ہوں۔ بہرحال اہلِ سُنّت و جماعت کے علما و مشائخ کی محفلوں میں مولانا کا ذکرِ خیر
ہوتا رہتا ہے۔ راقم الحروف کی نظر میں وہ ایک جامع شخصیت کے آئینہ دار ہیں۔ ان کی
علمی اور عملی سرگرمیوں کا ایک وسیع دائرہ ہے۔ وہ اہلِ سُنّت کے معتبر عالم، زبان
و بیان پر قابو رکھنے والے خطیب ، عالمی سطح پر عصرِ حاضر کی آگہی کے ساتھ
اسلامیات کا درس دینے والے معلّم اور بھولے بھٹکے لوگوں کو راہِ راست پر لانے والے
قائد و راہ نما بھی ہیں۔ انھوں نے ان فرائض کو ادا کرنے کے لیے ورلڈ اسلامک مشن کے
معتمد خصوصی کا منصب قبول کیا اور اسی پلیٹ فارم سے انھوں نے ہندوستان سے انگلستان
ہی نہیں بلکہ یورپ، کینیڈا، امریکہ اور جنوبی افریقہ کے مختلف مقامات پر پہنچ کر
دین و سنّیت کی ترویج و اشاعت کی۔ ان کا ایک علمی اور عملی کارنامہ روناہی، ضلع
فیض آباد (یوپی) کا وہ دارالعلوم بھی ہے، جس کے لیے وہ جہاں بھی گئے اشتراک و
تعاون کی صدا بلند کرتے رہے اور یہ انہی کی مساعیِ جمیلہ کا ثمرہ ہے کہ آج وہی
دارالعلوم ایک زمینی حقیقت بن کر ملک و بیرونِ ملک کے طلبا کو اپنی آغوشِ تربیت
میں لیے ہوئے ہے۔
ایسے غیر معمولی نصابِ زندگی
رکھنے والے کو شعر و سخن کی جانب متوجہ و ملتفت ہونا اسی جامع شخصیت کا ایک
امتیازی پہلو ہے جس کا ذکر اوپر کیا جاچکا ہے۔ اس موقع پر ایک واقعہ یاد آرہا ہے
جس کا ذکر شاید بے محل نہ ہوگا۔ واقعہ یہ ہے کہ مولانا احمد یار خاں صاحب (جو بعد
میں مفسّر، محدث، مفتی، مفکّر، مؤرخ، مناظر، شاعر و ادیب اور صاحبِ تصانیفِ کثیرہ
ہوئے) اپنے استاد حضرت صدرالافاضل مراد آبادی کے حکم پر اپنا تر و تازہ علم لے کر
شیخ الحدیث کی حیثیت سے جامعہ اشرفیہ، کچھوچھہ شریف پہنچے تو وہ ملاقات کے لیے
میرے دادا جان حضرت مولانا حکیم سید نذر اشرف فاضلؔ علیہ الرحمۃ (المتوفی
۲۱؍
نومبر
۱۹۳۹؁ء) کے پاس آئے جو اس وقت کثرتِ مطالعہ اور چیچک کی
بیماری کے سبب آنکھوں سے معذور ہوچکے تھے۔ مولانا نے پہلے اپنا تعارف کرایا اور
کچھوچھہ شریف آنے کی غرض و غایت بتائی۔ سب کچھ سننے کے بعد حکیم صاحب قبلہ نے
پوچھا: ’’مولانا آپ کو شعر و سخن سے بھی دل چسپی ہے۔
‘‘
مولانا نے نفی میں جواب دیا
تو حکیم صاحب قبلہ برملا بول پڑے کہ ’’آپ نصف عالم ہیں۔
‘‘
حکیم صاحب قبلہ کی یہ بات
مولانا احمد یار خاں صاحب کے دل میں بیٹھ گئی۔ چنانچہ بعد میں انھوں نے حکیم صاحب
ہی سے عروض کا فن سیکھا۔ زبان و بیان کی نوک پلک درست کرنے کا طریقہ معلوم کیا۔
سالکؔ تخلص رکھا اور دیوانِ سالکؔ کے تخلیق کار بن گئے۔
اس واقعہ سے اتنا تو پتہ چل
ہی گیا کہ اگر کوئی عالم ہزار علم و فضل رکھے لیکن شعر و سخن سے تہی دست ہو تو اس
کی جامع شخصیت کا وجود ممکن ہی نہیں ہے۔ اب یہ سمجھنا شاید غلط نہ ہوگا کہ
’’خیابانِ مدحت‘‘ حکیم صاحب قبلہ کے قول کی روشنی میں جامع شخصیت کے تکملہ کا
نشانِ جلی ہے۔ اس مختصر تمہیدی گفتگو کے بعد خیابانِ مدحت پہ توجہ کیجیے جس کی
ابتدا حمدِ الٰہی سے ہوتی ہے۔ مولانا قمرؔ اعظمی نے اہلِ سُنّت و جماعت کے بنیادی
عقیدۂ توحید کی بنیاد پر خداے تعالیٰ کی الہٰیت و الوہیت، اس کی ربوبیت و حاکمیت
اور اس کی قدرت و خلّاقیت کو شعری رنگ دے کر ایسی زمین منتخب کی ہے جس کی ردیف کی
اُچھال ہی شوق کو بیدار کردیتی ہے۔ چند اشعار آپ بھی ملاحظہ فرمائیں    ؎
مصروفِ ثنا ہیں شام و سحر
سبحان اللہ سبحان اللہ
آیاتِ خدا ہیں بحر و بر
سبحان اللہ سبحان اللہ
ہر شے میں تِرا جلوہ پنہاں
کونین تِری عظمت کا نشاں
افلاک ہیں قدرت کے مظہر
سبحان اللہ سبحان اللہ
ہر حمد تجھی کو شایاں ہے
توُ مالک و قادر و رحماں ہے
ہے تیرا کرم ہر اِک شے پر
سبحان اللہ سبحان اللہ
خلّاق جمالِ امکان ہے ہر
ذرّہ حسن بداماں ہے
ہر قطرۂ شبنم مثلِ گہر
سبحان اللہ سبحان اللہ
اسی طرح مولانا قمرؔ اعظمی
اپنے علم و فضل کی بدولت نعتیہ شاعری کی پُر خطر راہ سے بخیر و عافیت گزر گئے ورنہ
اس راہ پر چلنے والے اکثر شعرا کو گرتے پڑتے اور سنبھلتے دیکھا ہے۔ وجہ صرف یہ ہے
کہ نعتیہ شاعری کا اصل مرکز و محور حضور آئینۂ رحمت صلی اللہ علیہ وسلم کی تعریف
و توصیف ہے، جو فکر و نظر اور زبان و بیان دونوں لحاظ سے شعرا کو پابند و مقیّد
کرتی ہے۔
یہاں بقول حضرت حسّان بن
ثابت رضی اللہ تعالیٰ عنہ ’’شاعر اپنے کلام سے محبوب کے حسن و جمال کو نہیں
سنوارتا بلکہ محبوب کے جمالِ کردار اور حسنِ سیرت سے اپنے کلام میں نکھار پیدا
کرتا ہے۔ اسی لحاظ سے کتاب و سنّت اور تاریخ و سیر کا غائر مطالعہ نعتیہ شاعری کے
لیے لازمی اور ناگزیر ہے تاکہ سرکارِ ابد قرار صلی اللہ علیہ وسلم کو نہ تو کوئی
خدا سمجھے اور نہ ہی خدا سے جُدا خیال کرے۔ شیخ سعدی نے بڑے پتے کی بات کہی ہے
:
بعد از خدا بزرگ توئی قصہ
مختصر
حاصلِ گفتگو یہ ہے کہ خدائے
ذوالجلال کے محبوب، جمیل و جلیل کی ذات والا صفات سے والہانہ تعلقِ خاطر رکھنے کے
باوجود ہوش و حواس کو قابو میں رکھنا نعت نگاری کی شرطِ اوّل ہے۔   ؎
                                      با خدا دیوانہ باش با محمد ہوشیار
اقبالؔ نے تو کہہ کر نعت
نگاروں کو مزید چونکا دیا کہ   ؎
ادب گاہیست زیر آسماں از
عرش نازک تر
نفس گم کردہ می آید جنید و
بایزید ایں جا
یہ پہلے ہی عرض کیا جاچکا
ہے کہ مولانا قمرالزماں اعظمی اہلِ سُنّت و جماعت کے ایک معتبر عالم، قائد اور
مبلّغ ہیں۔ ان کے عقیدۂ توحید کی طرح ان کا نظریۂ رسالت و نبوت بھی ان کے کلام
سے نمایاں طور پر جھلکتا ہے۔ ملاحظہ فرمائیں
؎
محمد باعثِ تخلیقِ عالم
وہ نقشِ اولین کلکِ قدرت
بشر پیکر مگر نورِ مجسم
نبوت اور رسالت کے وہ خاتم
جبینِ عشق کے تابندہ گوہر
سنواری جس نے زلفِ آدمیت
بساطِ زیست کے شہکارِ اعظم
نکھارا جس نے روئے ابنِ
آدم
وقارِ آدمیت جس کے دم سے
نگارِ بزم خلّاقِ دوعالم
اظہارِ تشکر کے ساتھ مولانا
قمر اعظمی کا حسنِ طلب بھی دیکھیے
:
کرم فرما دیا آقا نے ورنہ
کہاں ان کا درِ اقدس کہاں
ہم
عطا ہو قومِ مسلم کو دوبارہ
محبت، شوکتِ دیں، جذبِ باہم
مولانا قمر اعظمی کی نعتیہ
شاعری میں فکر و جذبہ کی شمولیت کے ساتھ تغزل کا رنگ بھی چمکتا ہے اور تخلص کے
استعمال میں مومنؔ خان کا انداز بھی    ؎
برس لے کھل کے مِری چشمِ تر
مدینے میں
بنیں گے اشکِ ندامت گہر
مدینے میں
جمالِ کون و مکاں جن کا دل
لبھا نہ سکے
ملیں گے ایسے بھی آشفتہ سر
مدینے میں
ہماری آبلہ پائی قریب منزل
ہے
کہ ختم ہوگا جنوں کا سفر
مدینے میں
زمیں طیبہ ہے رشک فضاے
کاہکشاں
طواف کرتے ہیں شمس و قمر
مدینے میں
علاوہ ازیں خیابانِ مدحت
میں سرورِ کائنات ﷺ کے خُلقِ عظیم، صبر وشکر، عفو و درگزر، وسعتِ علم، شفقت و
رحمت، سخاوت و ایثار، عزم و استقلال، قوت و شجاعت، صدق و صفا، عفت و حیا، عدل و
انصاف، ذوقِ عبادت، شفاعتِ کبریٰ اور مرتبۂ قربِ خاص کا صراحت کے ساتھ ذکر ملتا
ہے۔ جو مولانا قمرؔ اعظمی کے عالمانہ، شاعرانہ اور قائدانہ تینوں اندازِ فکر کے
ساتھ ان کی حبیب ربّ العالمین سے کامل وابستگی، محبت و عقیدت، عاجزی و فروتنی،
وارفتگی و سپردگی کا غمّاز ہے۔
محسن کاکوروی کا حسنِ
تکلّم، امام احمد رضا بریلوی کا عاشقانہ و قلندرانہ ترسیلِ جذبات، حالیؔ کی حزنیہ
لَے، اقبالؔ کی تمازتِ فکر اور عشقِ رسول کا جوش و خروش سب کچھ نمایاں طور پر
محسوس ہوتا ہے۔
ایک سرسری مطالعے کے بعد
چند منتخب اشعار درجِ ذیل ہیں
:
وہاں پر خواب گاہِ ناز
سرکارِ دوعالم ہے
جہاں پر طائر سدرہ نشیںاب
تک پر افشاں ہے
وہاں پر زندگی ہے بندگی ہے
کیف و مستی ہے
یہاں پر دل پشیماں، چشمِ
گریاں آہِ سوزاں ہے
کرم اے رحمت اللعالمیں کہ
آپ کے در پر
غریب و بیکس و نادار یہ
قمرالزماں خاں ہے
٭٭٭٭
خدائے پاک کی تخلیقِ اوّلیں
ہیں آپ
مگر جہاں کو نوازا لباسِ
آدم میں
٭٭٭٭
ملارفعتوںکوعروجِ نو وہ
جہاںجہاں سے گزرگئے
ابھی تھے حرم میں وہ جلوہ
گر، ابھی کہکشاںسے گزرگئے
وہ بڑھے تورک گئیں ساعتیں
وہ بڑھے توجھک گیا آسماں
ابھی سربسجدہ تھے قدس میں
تو ابھی جناں سے گزر گئے
نہ نظر کو تابِ نظارہ تھی
نہ بصیرتوں کا گزر وہاں
وہ شعورو عقل وخیال و وہم و
ظن و گماں سے گزرگئے
٭٭٭٭
نہ کسی وطن کا وقار ہوں نہ
کسی چمن کا میں پھول ہوں
میری عظمتوں کوسلام دوکہ
مَیں اِک غلامِ رسول ہوں
میں شفاے روح سقیم ہوں میں
علاجِ قلب علیل ہوں
میں غبارِراہِ حبیب ہوں میں
دیارِ قدس کی دھول ہوں
٭٭٭
حضور شاہِ مدینہ جو اشک بار
آئے
وہ اپنے دوش سے بارِ گنہ اُتار
آئے
حضور آپ کے در سے جو اشک
بار چلے
سند نجات کی لے کر گناہ گار
چلے
خزاں رسیدہ گلستانِ عصر پر
آقا
حیاتِ نو کے لیے بادِ کوئے
یار چلے
سروں پہ خاکِ مدینہ دِلوں
میں عشقِ رسول
متاعِ کون و مکاں لے کے
خاکسار چلے
٭٭٭
محمد سیدِ کونین صدر بزم
امکانی
نگارِ انجمن شہکار کل تخلیق
ربانی
حرا کی خلوتوں سے اِک نظامِ
زندگی لائے
رہے گی تا قیامت اس کلامِ
حق کی تابانی
نصابِ زندگی ہر دور کے
انسان کی خاطر
عیاں ہوتے رہیں گے حشر تک
اسرارِ قرآنی
٭٭٭٭
اے دل سنبھل کہ سامنے شہرِ
رسول ہے
ہر ہر قدم پہ رحمت رب کا
نزول ہے
دشمن ہیں اپنے ہاتھ میں
پتھر لیے ہوئے
لیکن نبی کے ہاتھ میں رحمت
کا پھول ہے
٭٭٭٭
اے سرورِ ہر دوسرا اے
تاجدارِ بحر و بر
تیرے کرم کے منتظر حور و
ملک، جن و بشر
سرمایہ داری اشتراکیت ہو یا
جمہوریت
اُتری نہ کوئی آج تک اسلام
کے معیار پر
٭٭٭
مسلمانانِ عالم پر سبھی
مسدود ہیں راہیں
نظر آجائے منزل ان کو ایسی
روشنی دے دیں
ہمارے اپنے طرزِ زندگی پر
کفر خنداں ہے
میرے ہادی، مسلماں کو شعورِ
زندگی دے دیں
٭٭٭
عروجِ عرشِ علیٰ پہ جو
جگمگا رہا ہے، میرا نبی ہے
حِرا کی خلوت میں سب کی
قسمت بنا رہا ہے، میرا نبی ہے
وہ محسنِ کائنات انساں حیات
ایمان و جانِ ایقاں
وہ نورِ رب جو جہاں کی ظلمت
مٹا رہا ہے، میرا نبی ہے
٭٭٭
طائرِ فکر مِرا جب بھی غزل
خواں ہوگا
نام سرکار میری نظم کا
عنواں ہوگا
٭٭٭
حضور آپ نے بخشا ہمیں
شعورِ حیات
وگرنہ ہم بھری دنیا میں بے
نشاں ہوتے
بھٹکتے رہتے کہیں ہم گماں
کے صحرا میں
یقین ہم کو نہ ملتا تو ہم
کہاں ہوتے
٭٭٭
نہ لاتے تاب نظر جن و انس
حور و ملک
کبھی جو شکلِ حقیقی میں وہ
عیاں ہوتے
تمہارے ملک میں ہوتا جو
مصطفی کا نظام
تو ہم زمین کی حرمت کے
پاسباں ہوتے
٭٭٭
آپ ہیں فخرِ دو جہاں آپ
ہیں روحِ کائنات
آپ کی ذاتِ پاک ہے باعثِ
خلقِ کائنات
ان کی ادا نماز ہے ان کاہر
اِک قدم ہے دیں
ذکرِ نبی خدا کا ذکر، قولِ
نبی خدا کی بات
شہرِ رسولِ پاک میں بارشِ
نور ہر طرف
روضۂ پاک بالیقیں مرکزِ
تجلیات
ان کا خیالِ پاک ہے فکر و
نظر کی زندگی
ذکر ہے روح کی غذا یاد ہے
قلب کی حیات
٭٭٭
یہ میری آبلہ پائی یہ رہ گزر
تنہا
سہارا دے گی مجھے آپ کی
نظر تنہا
تمہاری یاد نہ ہوتی تو مَیں
کہاں جاتا
مَیں کیسے کرتا بھلا زندگی
بسر تنہا
تمہارے در سے نہ ملتی یقین
کی دولت
گماں کے دشت میں پھرتا میں
بے خبر تنہا
تمہارے نقشِ کفِ پا کا عکس
دل پہ لیے
ہجومِ کاہکشاں میں رہا قمرؔ
تنہا
٭٭٭
’’خیابانِ مدحت‘‘ میں حضرت
سیدنا امام عالی مقام، حضرت غوثِ اعظم اور حضرت خواجہ غریب نواز رضی اللہ عنہم
اجمعین کی بارگاہ میں نذرانۂ عقیدت جاذبِ قلب و نظر ہے اور مولانا قمرؔ اعظمی کا
اپنے ممدوح سے شیریں دیوانگی کا اظہار بھی ہے۔
اس شعری مجموعے میں
’’استغاثہ‘‘ کے عنوان سے جو کلام ہے وہ نعت ہے۔ عصرِ حاضر کے مسلمانوں پر ظلم و
تعدّی اور عالمی سطح پر قتل و غارت گری کے ننگے ناچ کی پوری عکاسی بھی ہے۔ اور
آخر میں یہ کہہ کر    ؎
کاش اُمّت کی قیادت کریں اب
ایسے لوگ
آستینوں میں ہوں جن کے یدِ
بیضا پنہاں
شاعر نے دل کی بھڑاس بھی
نکالی ہے اور موجودہ عالمی مسلم قیادت پر طنزِ ملیح بھی کیا ہے۔ یہ ہے مولانا قمر
اعظمی کی وہ قائدانہ پکار جو نظامِ دوراں کی تبدیلی کی منتظر ہے۔
مجموعی طور پر ’’خیابانِ
مدحت‘‘ ایک ایسا شعری مجموعہ ہے جو سوز و ساز و درد و داغ و جستجو و آرزو کی ایک
تابندہ مثال ہے۔ اُمید ہے کہ دینی اور ادبی حلقوں میں اس کی خاطر خواہ پذیرائی
ہوگی۔
سب سے آخر میں اپنی اس
خواہش کا اظہار ضروری سمجھتا ہوں کہ ’’خیابانِ مدحت‘‘ کا دوسرا ایڈیشن ترتیب و
تہذیب و تزئین، پروف ریڈنگ اور سائز کے لحاظ سے خوب سے خوب تر ہے۔ وما توفیق الّا
باللّٰہ العلی العظیم۔
٭…٭…٭