دریدہ لاکھ سہی، اُس کے روبرو کردے

عرفان دانشؔ سکندری

دریدہ لاکھ سہی، اُس کے روبرو کردے
نہ جانے کب ترے دامن کو وہ رفو کردے
بعید کچھ بھی نہیں ہے، وہ جب جہاں چاہے
گناہ گارِ محبت کو سرخ رو کردے
گل اُمید کھلائے تو دشتِ حسرت میں
قدم قدم پے وہ تزئین رنگ و بو کردے
جو ریگ زار کو چھوجائے موجۂ باراں
تو ذرّہ ذرّہ کو شائستہ نمو کردے
کہیں وہ پیاس کو سرشارِ جستجو رکھے
کہیں چٹان سے پیدا وہ آب جو کردے
زباں پہ حرفِ دعا رکھ یہ عین ممکن ہے
تو لب ہلائے وہ تکمیلِ آرزو کردے