دشت، صحرا، چمن عطا تیری یہ زمیں اور گگن عطا تیری

مشتاق احزنؔ (جمشید پور)

دشت، صحرا، چمن عطا تیری
یہ زمیں اور گگن عطا تیری

تجھ سے کلیوں میں رنگ و روغن ہے
پھول کا بانکپن عطا تیری

چاندنی رات، چاندنی تحفہ
اس کی ٹھنڈی کرن عطا تیری

مہرومہ تجھ سے نور پاتے ہیں
جو ہیں جلوہ فگن عطا تیری

دوجہاں کے لئے نبیؐ رحمت
ان کا نوری بدن عطا تیری

شعر کہتا ہوں جیسے ہوتاہے
شعر کہنے کا فن عطا تیری

حمد کرتا تو ہے رقم احزنؔ
بات گر جائے بن، عطا تیری