دعا کی اہمیت

دعا کی اہمیت

’’دعا‘‘ اس رب السماوات کا حکم بھی ہے اور رسول کریم ﷺ کی احادیث کے ذریعہ بھی دعا کی اہمیت بیان کی گئی ہے۔
قرآن مقدس میں کہا گیا ہے (الاعراف ۵۵)
’’ادعوا ربکم تضرعا و خفیہ‘‘
’’اپنے رب کو پکارو گڑگڑاتے ہوئے اور چپکے چپکے‘‘
سلاست سے پُر کسی تشریح سے بے نیاز لیکن معنویت سے لبریز سورہ فاتحہ جس کے ذریعہ قرآن کریم کی ابتدا ہوتی ہے اور جسے ’’سبع مثانی‘‘ کہا جاتا ہے حمد باری بھی ہے اور زبردست مناجات بھی احادیث میں اس سورہ کو ام القرآن،اساس القرآن الکافیہ اور الکنز وغیرہ سے تعبیر کیاگیا ہے۔
سورہ الفرقان آیت ۷۷ کے ذریعہ اللہ تبارک و تعالی حضور سرور کائنات کے واسطے سے بندوں کو تنبیہ فرماتا ہے:
’’قل ما یعبواکم ربی رب لولا دعاء کم‘
’’کہہ دو اے محمد ﷺ میرے رب کو تمہاری کیا حاجت پڑی ہے اگر تم اس کو نہ پکارو‘‘
دوسری آیت المومن ۶۰ میں ارشاد رب العالمین ہے:
’’ادعونی استجب لکم‘‘
’’مجھے پکارو میںتمہاری دعائیں قبول کروں گا۔‘‘
ارشاد باری کے ذریعہ دعا کی اہمیت کو مد نظر رکھتے ہوئے حضور سرور کائنات حضرت محمد ﷺ نے حضرت ابن عمر، اور حضرت معاذ بن جبل ؓ کے بیان کے مطابق فرمایا:
’’ان الدعا ینفع مما نزل و مما لم ینزل فعلیکم عباد اللہ بالدعاء‘‘ (ترمذی، مسند احمد)
ترجمہ: ’’یعنی دعا بہر حال نافع ہے ان بلاؤں کے معاملے میں جو نازل ہوچکی ہیں اور انکے معاملہ میں بھی جو نازل نہیں ہوئیں۔ پس اے بندگان خدا تم ضرور مانگا کرو۔‘‘
ایک حدیث مزید مطالعہ کریں۔ حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ حضور سرور کائنات ﷺنے فرمایا:
’’یسال احدکم ربہ حاجۃ کلہ حتی یسال شع نعلۃ ادا انقطع‘‘ (ترمذی)
ترجمہ: تم میں سے ہر شخص کو اپنی حاجت خدا سے مانگنی چاہئے حتی کہ اگر اس کی جوتی کا تسمہ بھی ٹوٹ جائے تو خدا سے دعا کرے۔‘‘
اور دیگر احادیث میں حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ حضور اکرم ﷺ نے فرمایا کہ ’’دعا سے بڑھ کر کوئی چیز اللہ کی نگاہ میںمکرم یا با وقعت نہیں ہے۔‘‘
ایک مرتبہ آقاؓﷺ نے متنبہ فرمایا کہ ’’جو اللہ سے نہیں مانگتا اس پر اللہ غضبناک ہوتا ہے‘‘
’’دعا عین عبادت ہے‘‘ (ترمذی، ابو داؤد و نسائی) ’’دعا عبادت کا مغز ہے۔‘‘ (ترمذی)

ایک جگہ ارشاد ہوتا ہے: ’’قضا کو بجز دعا کوئی چیز نہیں ٹال سکتی‘‘ (ترمذی)
آسمانی کتاب ’’زبور‘’ ہندؤں کی مقدس کتابوں وید اور اپنشد میں بھی دعائیہ کلمات ’’سوکت‘‘ کی شکل میں موجود ہیں۔ ان دعاؤں کی جہاں ہندؤں کا عجز موجود ہے وہیں اس قادر مطلق کی شان اور قدرت کی بھی مظہر ہیں۔
دعا اور مناجات کی روایت بہت پرانی ہے۔ عربی زبان میں بہترین مناجات موجود ہیں۔ ان پاکیزہ اصناف سخن کو اتنااحترام حاصل ہوا کہ بیشتر کتب کی ابتدا حمد و مناجات سے کی جاتی رہی ہے۔
عربی زبان میںمناجات:
شاعر رسول حضرت حسان بن ثابت الانصاری ؓ کی نعتوں پر بھی بر محل مناجاتی اشعار آجاتے تھے۔ ان کا ایک شعر ہے:
لک الخلق والنعماء والامر کلہ
فیاک نستہدی و ایاک نعبد
مفہوم: (حیات بخشی، نفع رسانی اور ساری حکمرانی صرف تیری (اللہ کی) ہے۔ ہم تجھ سے ہدایت کے طالب ہیں اور تیری ہی عبادت کرتے ہیں۔
ایک اور مناجات میں احساس عجز کے ساتھ خلیفۂ اول حضرت ابو بکر صدیق ؓ کے اشعار مناجات سے یہ واضح ہوتا ہے کہ اللہ تعالی کی مدد اور نصرت کے بغیر بندہ با اختیار ہونے کے باوجود بھی بے اختیار دکھائی دیتا ہے۔ بڑی معرکۃ الآرا مناجات ہے۔ کتاب ہذا میں مناجات کے حصہ میں یہ مناجات معہ ترجمہ کے شامل ہے۔
اگر ہم جدید عربی شعراء کے کلام کا مطالعہ کریں تو ان کی مناجات میں بھی رقت اور تضرع کی کیفیات ملیں گی۔ ایلیا ابو ماضی کے مناجاتی اشعار پیش ہیں:
ولیس حالی یا رب داء

ولا احتیاجی الی الدواء
لکن امنیتی بنفسی

یسترہا الخوف والحیا
فقلت یا رب فصل صیف

فی ارض لبنان او شتاء
فانی ہا ہنا غریب

ولیس فی غربۃ ہناء
(ترجمہ) ’’اے میرے رب! نہ مجھے کوئی مرض ہے اور نہ مجھے دوا کی ضرورت ہے۔ لیکن میری آرزو میرے جی میں ہے جس کو خوف و شرم چھپائے ہوئے ہے، تب میں نے کہا اے رب ! لبنان میں جاڑا یا گرمی کا موسم چاہتا ہوں اس لیے کہ میں یہاں اجنبی ہوں اور اجنبیت میں لطف کہاں؟‘‘