دلوں کو پہلے تو صبر جمیل دے یارب پھر ہجر آشنا لمحہ طویل دے یارب

حبیب راحت حبابؔ

دلوں کو پہلے تو صبر جمیل دے یارب
پھر ہجر آشنا لمحہ طویل دے یارب

اب اور کتنا لہو دیں عدو کے خنجر کو
اب اور ظلم کو اتنی نہ ڈھیل دے یارب

ہر اک محاذ پہ نمرود ہیں مقابل میں
ہمیں بھی حوصلہ ہائے خلیل دے یارب

مجھے عصائے کلیمی تو کر عطا پہلے
پھر اس کے بعد تو دریائے نیل دے یارب

سر غرور نہ اونچا ہو تیری عظمت سے
تو اپنے ہونے کی کچھ تو دلیل دے یارب

حبابؔ دیتا ہے اب واسطہ محمدؐ کا
نہ فاصلے نہ دعا کو فصیل دے یارب