دن طلوعِ مہر کا منظر بنا دیتا ہے کون رات ماہِ نور کی چادر بچھا دیتا ہے کون

خاور اعجاز

دن طلوعِ مہر کا منظر بنا دیتا ہے کون
رات ماہِ نور کی چادر بچھا دیتا ہے کون

کون رکھتا ہے دیارِ شوق پر دستِ صبا
حبس کے موسم میں بھی ٹھنڈی ہوا دیتا ہے کون

دشتِ ظلمت میں کرن آتی ہے کس کے حکم سے
پھر اسے پیہم سفر کا حوصلہ دیتا ہے کون

کون ہوتا ہے پسِ پردہ گماں کی دھند میں
اور پھر سارے حجابوں کو اٹھا دیتا ہے کون

کس سے پردہ ہائے آگاہی میں ہے اک ارتعاش
رفعتِ افلاک سے ہم کو صدا دیتا ہے کون
ایک روحِ بے کراں جو ماورا ہم سب سے ہے
مرکزِ انوار جس کا رابطہ ہم سب سے ہے