دھوپ سایہ دے شجر سے ہو تمازت کا ظہور ہو اگر تیرا اشارہ چاند سے چھن جائے نور

ڈاکٹرمعظم علی خاں

دھوپ سایہ دے شجر سے ہو تمازت کا ظہور
ہو اگر تیرا اشارہ چاند سے چھن جائے نور
اک جھلک تیری جلاسکتی ہے بیشک کوہِ طور
غم کدہ بن جائے قدرت سے تری دارالسرور
ہو کرم تیرا تو ہر بنجر زمیں زرخیز ہو
تیری رحمت کے چراغ خیر کی لو تیز ہو

زرد پتوں کا مقدر سبز کرسکتا ہے تو
ریت کے سینے سے تو چاہے تونکلے آب جو
تو نسیم صبح میں تبدیل کرسکتا ہے لو!
حکم سے تیرے رواں ہو جسم بے جاں میں لہو
تیری مرضی ہو تو زنداں کی طرح مردے اٹھیں
تو اگر چاہے تو آب سرد سے شعلے اٹھیں

سنگ مرمر بھی جو تو چاہے ہوجائے سیاہ
ظلمتوں کے بطن سے پیدا ہوں نجم و مہرو ماہ
روند ڈالے فوج باطل کو پرندوں کی سپاہ
پیٹ مچھلی کا بنے انساں کی جائے پناہ
عاصیوں پر تو کرم کردے تو دوزخ ہوحرام
بادہ تطہیر سے لبریز ہوں ہم سب کے جام

ایک لفظ کن سے ناممکن کو تو ممکن کرے
پیرسن کو حکم تیرا شاہد کم سن کرے
تو شبِ تاریک سے چاہے تو پیدا دن کرے
بحرِ شوریدہ کو تو ہی ساکت وساکن کرے
سرکے بل گر کربت بے جاں تجھے آوازدے
تو اگر چاہے تو مٹی کو پرِ پرواز دے

ٹکڑے ٹکڑے چہرۂ مہتاب کرسکتا ہے تو
زہرۂ برق تپاں کو آب کرسکتا ہے تو
خشک پودوں کی جڑیں سیراب کرسکتا ہے تو
گلشن برباد کو شاداب کرسکتا ہے تو
حکم سے تیرے پرندے گفتگو کرنے لگیں
پیرہن پھولوں کا خود کانٹے رفو کرنے لگیں

پیکر تذلیل ہیں بندے ترے دنیا میں آج
تمکنت لیتی ہے بڑھ کر انکساری سے خراج
جبرواستبداد کا تیرے ہی بس میں ہے علاج
چھین لے مغرور قوموں سے متاع تخت و تاج
مسجدیں ڈھانے لگے ہیں بت پرستی کے امیں
اہل ایماں کا محافظ اب یہاں کوئی نہیں