دیے جلانے کی اشکوں سے ابتدا کی ہے نقوشِ پائے محمد کی اقتدا کی ہے

دیے جلانے کی اشکوں سے ابتدا کی ہے
نقوشِ پائے محمد کی اقتدا کی ہے
مرے بھی گھر کی منڈیروں پہ کہکشاں اُترے
غبارِ شہرِ پیمبر سے التجا کی ہے
تمام عمر گزاری ہے اُن کی گلیوں میں
خدا کا شکر ہے، سرکار کی ثنا کی ہے
قلم کو چاند ستاروں کا پیرہن آقا
یہ التماس یقینا مری وفا کی ہے
اُفق اُفق پہ ستارے سے جھلملاتے ہیں
تمام روشنی اُن کے نقوشِ پا کی ہے
وہ کیا ہے؟ جس پہ حکومت نہیں مدینے کی
ہر ایک چیز زمانے میں مجتبیٰ کی ہے
ثنائے مرسلِ آخر کا ورد جاری ہے
شریک آج بھی رحمت مرے خدا کی ہے
مکینِ گنبدِ خضرا کا ہے کرم بے حد
قلم یہ رحمتِ یزداں بھی انتہا کی ہے
مسافروں کو ڈبو دو کسی بھی ساحل پر
رضا ہمارے سفینے کے ناخدا کی ہے

برہنہ سر کو چھپائے یہ کس جزیرے میں
یہ شام آپ کی اُمت کے انخلا کی ہے
اُٹھا رکھا ہے ہوا نے دیا غلامی کا
حضور، حاضری یہ آپ کے گدا کی ہے
ہوا ہے قصرِ رسالت کا بند دروازہ
حدیث سارے رسولوں کے پیشوا کی ہے
ہر ایک پیڑ پہ اُترے بہار کا موسم
حجازِ عشقِ پیمبر میں یہ دعا کی ہے
لباسِ عجز میں رہتی ہے اُن کی چوکھٹ پر
عجیب ایک کہانی مری انا کی ہے
ہر ایک لفظ سے ٹپکی ہیں خون کی بوندیں
یہ داستان شہیدانِ کربلا کی ہے
قدم قدم پہ اُجالے بکھرتے رہتے ہیں
جو دل کشی ہے پیمبر کی ہر ادا کی ہے
ریاضؔ، حشر میں ڈھونڈیں گے آپ کا خیمہ
یہ بات ربّ محمد کے انبیا کی ہے

ہوا کو کرکے مقفل تجوریوں میں ریاضؔ
امیرِ شہر نے توہینِ مصطفیٰ کی ہے
ریاض حسین چودھری (سیال کوٹ)