ذرّے ذرّے میں جلوہ نمائی تری اے خدا بولتی ہے خدائی تری

حافظؔ کرناٹکی

ذرّے ذرّے میں جلوہ نمائی تری
اے خدا بولتی ہے خدائی تری
دنیا کرتی ہے ان کی قدم بوسیاں
جن کے دل میں ہے وحدت سمائی تری
قطرے قطرے میں شبنم کے تیرا ہنر
پتّے پتّے پہ دیکھی لکھائی تری
ڈوب جاتی ہے شب تیری تسبیح میں
صبح کرتی ہے مدحت سرائی تری
تیرے بندوں نے اپنا بھلا کرلیا
بندگی سے ہوئی کب بھلائی تری
کیا بیاں ہوگی حافظؔ سے تیری ثنا
ما ورائے قلم ہے بڑائی تری