ذکرِ خیرالبشرﷺ میں رہتا ہوں خوشبوئوں کے سفر میں رہتا ہوں

نعت
ذکرِ خیرالبشرﷺ میں رہتا ہوں
خوشبوئوں کے سفر میں رہتا ہوں
نور ، زا مستقر میں رہتا ہوں
شہر نوریں اَثر میں رہتا ہوں
عشقِ سرکارﷺ میں جو بہتی ہے
میں اسی چشمِ تر میں رہتا ہوں
دونوں عالم ہیں اُنﷺ کی نظروں میں
میں بھی اُنﷺ کی نظر میں رہتا ہوں
سر پہ چادر تنی درودوں کی
رحمتوں کے اثر میں رہتا ہوں
یہ گماں بھی کبھی گزرتا ہے
جیسے طیبہ نگر میں رہتا ہوں
اُنﷺ کا لطف و کرم ہے اے طاہرؔ!
محفلِ معتبر میں رہتا ہوں

طاہر سلطانی