ربِّ بود و نبود و نادیدہ تجھ سے کچھ بھی نہیں ہے پوشیدہ

ولی عالم شاہین کناڈا

ربِّ بود و نبود و نادیدہ
تجھ سے کچھ بھی نہیں ہے پوشیدہ
اے کہ ہے بے نظیر تیری ذات
تجھ سے ہے سارے جز و کل کو ثبات
اک کرم کی نگاہ ہم پر ڈال
ہم کہ ہیں دل فگار و خستہ حال
سر ہمارا پھرے نہ غفلت میں
دل نہ ہو بے مزہ مصیبت میں
ہو گھڑی فتح یا ہزیمت کی
دے چمک آنکھ میں بصیرت کی
خامشی جہل کی دلیل نہ ہو
بات بے وجہ بھی طویل نہ ہو