روزنامہ ’’سالار ‘‘کے نعت نمبروں کا ایک مختصرتنقیدی وتحقیقی جائزہ

روزنامہ ’’سالار ‘‘کے نعت نمبروں کا  ایک مختصرتنقیدی وتحقیقی جائزہ

غلام ربانی فداؔ
مدیرجہان نعت

حضورنبی کریم ﷺ سے محبت اورعقیدت ہرمومن کے لئے فرض ہے اوراس محبت اورعقیدت کے اظہار کے لئے ہزاروں طریقے اوروسیلے  فراہم ہیں جن سے نئے نئے چراغ روشن کیے جاسکتے ہیں یہ ارباب فکرودانش پرمنحصر ہے کہ وہ کس طرح خاموش ومقدس جذبوں کونطق عطاکرتے ہیں اوراظہار کے لئئے کتنے متنوع طریقے ایجاد کرتے ہیں نعت کہنا ایک بابرکت عمل ہے نعت کی اشاعت، ترویج،تنقید،تفہیم، تقریظ اس کے حصول کے پیمانے ہیں۔خوش قسمت ہوتے ہیں وہ جواس فرض کو آخری سانس تک نبھاتے ہیں۔چاہے اس کے صلے میں داد وستائش ان کے ملے یانہ ملے ۔دولت وسرمایہ ملنے کے بجائے خرچ کرناپڑے۔ پھربھی ان کی ایک ہی خواہش ہوتی ہے ،یانبیﷺ آپ پہ سب قربان ہے۔انہیں شہرت کی پرواہ نہیں ہوتی بس وہ رسول ﷺ محبت والفت کے گلہائے رنگ رنگ چنتے رہتے ہیں۔ان کی خوشبو سے خوداوردوسروں کومعطرکرتے رہتے ہیں۔ایسے ہی لوگوں میں روزنامہ سالارکے عملہ خصوصاً محمداقبال مدیرادبی ایڈیشن کوشامل کرناچاہئے۔گوکہ اخبارات عوامی سطح کے ہونے کی وجہ سے اس کی ادبی وعملی حیثیت مستقل نہیں ہوتی اور اس کے اثرات بھی وقتی ہوتے ہیں اوراگردیرپاہوبھی گئے تومستقل نہیں ہوتے مگر روزنامہ سالار کاادبی ایڈیشن پورے ریاست کرناٹک کے قلمکاروں کے لئے کسی رسالے سے کم نہیں۔اس کے ادبی ایڈیشن میں معیاری مضامین ونثرونظم کے ساتھ دلکش ودلنشین نعتیں بھی شائع ہوتی ہیں۔گرچہ کے ریاست کرناٹک کے نعت گوشعرامیں تنوع کی کمی اور طرزِ اظہاروموضوعات میں جدت نہیں ہے۔راقم الحروف ریاست(بنگلور) کے دوردرشن کے شعبۂ چندن ٹی وی چینل میں انٹرویو کے لئے مدعوتھا ۔اسی غرض سے بنگلور پہنچااور بہت سارے احباب سے ملاقات ہوئی ہیں جس کاتذکرہ میں نے اپنے سفرنامے میں کردیاہے۔اسی  بہانے میں نے روزنامہ سالارکے دفترپہنچااور جناب محمداقبال سے سالار کے نعت نمبر حاصل کیا کچھ شمارے  ملے اورکچھ زیراکس لئے۔۲۰۰۸؁ء (محمداقبال  ادبی مدیرہونے)سے پہلے  سالارمیں ایک دونعت نظرآتے عیدہوجاتی تھی خدانے انہیںتوفیق دی  اور انہوں نے میلادالنبی ﷺ کے موقعے پرسالارمیں نعت نمبروں کی بناڈالی۔۲۰۰۹میں دوچارصفحات پرمشتمل اور۲۲فروری ۲۰۱۰؁ء میں بارہ صٖفحات پرمشتمل  اور۲۷فروری ۲۰۱۰؁ء کوچارصفحات پرمشتمل نعت نمبرشائع کیے۔۲۰۱۱؁ء اور۲۰۱۲؁ء میں دوصفحات پرمشتمل نعت نمبرشائع کیے۔علمیت کے اعتبارسے یہ کام نہایت کم مگرہے ریاست کرناٹک کے شعراوقلمکاروں کے لئے کسی نعمت عظمیٰ سے کم نہیں کیوں کہ یہاں ادب نعت کے حوالے سے معلومات کم ہیں بس شعرا اظہارعقیدت کے لئے بطورعبادت نعت کہتے ہیں۔اس خادم نعت نے لوگوں تک نعت کے حوالے سے بیداری لانے کے لئے مکمل کوششوں میں ہے اسی لیے جہان نعت کاآغازاورنعت مذاکرے ومباحثے منقعدکرنے کی سعادت حاصل کرتارہتاہے۔
’’روزنامہ سالار‘‘کے نعت نمبروں کی ایک بڑی خصوصیت یہ ہے کہ وہ  بیشمارنعتیں ہیں جن سے ذہن کوکشادگی اورروح کو بالیدگی حاصل ہوتی ہے۔نعت گوشعراہرنمبر میں  محفل نعت سجائے نظرآتے ہیں۔ان میں مقام استادی پرفائزبھی ہیں اور نئی نسل کے تازہ کار قلمکاربھی۔فی الوقت ہم شائع شدہ مضامین کے تجزیاتی وتنقیدی مطالعے کوپیش کرناضروری سمجھتے ہیں کیوں کہ اس وقت نعت کے حوالے سے تخلیقی عمل زیادہ ہواہے تجزیاتی وتنقیدی عمل کی جانب سے توجہ دی جارہی ہے۔ نعت ہی کیا ہرقسم کے مذہبی اورنیم مذہبی ادب پر تقدیس کے نقاب ڈال کرانہیں تنقیدسے بالاترقراردیاجاتاہے۔اس نوع کے ادب کے مضامین ، طرزبیان،زبان کے حسن وقبح پرگہری نگاہ ڈالنابے ادبی تصورکی جاتی ہے۔اس  لئے ان کی ستائش کے سواکچھ نہیں لکھاجاتا۔کم وبیش یہی صوت حال ’’سالار‘‘کے نعت نمبروں کی ہے اس حقیقت کے کے باوجودان مضامین کی اہمیت وافادیت سے انکاربھی نہیں  مشمولہ مضامین میں تنقیدکافقدان سہی لیکن ان مین قدیم ادب پرپڑی گرد کوصاف کرکے ادب کے تاریخ کے ابواب کو روشن کیاگیاہے۔ ان قلمکاروں نے شاعروں کی توصیف کلمات اورنعوت نبی ﷺ کے نمونے شائع کرکے ایک ایساخام مواد عنایت کیاہے کہ کوئی بھی صاحب نظر ان سے استفادہ کرکے تنقیدی کمی کوپوراکرنے کی سعی کرسکتاہے۔ اور ہمارے قلم وخیال کااصرارہے کہ اس کاجائزہ لیاجائے اس سے تجزیہ اورتنقید کاحق ادابھی نہ ہوتوکم ازکم ستائش کاحق توادا ہوجائے ۔اچھے کام سراہنا بدذوقی ہی نہیں بے توفیقی وبداخلاقی ہے اور ہم ان سے دامن کشاں ہیں۔
مجھے ’’سالار‘‘کے نعت نمبروں کاتجزیاتی اورتنقیدی مطالعہ کاخیال اسی سبب سے ہواکہ کہ اس چراغ کی مدھم ہوتی ہوئی لوایک باراور تیزکروں ۔ذہن وخیال سے محوہوتی ہوئی یادوں کوپھرسے تازہ کروں اورنعت کے حوالے سے ابتدائی نوعیت کامعلوماتی ،تحقیقی سرمایہ یکجاکرکے جس تحریک کاریاست میںآغازکیاگیاتھا پھرسے نشاندہی کرکے ان روشن اجالوںکواجاگرکروں واضح ہوکہ رونامہ سالار نے ریاست میں اس تحریک کو مجلہ جہان نعت سے دوبرس قبل آغازکیاتھا۔
رافعہ سعادت :’’کرناٹک میں شاعرات کی نعت گوئی‘‘
رافعہ سعادت نے ایک ایسے موضوع پرقلم اٹھایاہے جس کے لیے معلومات کی فراہمی آسان نہیں ہے۔یوں تو خواتین میں شعرگوئی کاذوق کبھی عام نہیں رہا۔جن خواتین نے اس جانب توجہ کی وہ سماجی روایات کی پاسداری میں کلام کی اشاعت سے پرہیزکیا۔اکثریت کاکلام ان  رسائل میں شائع ہواکرتاجوخواتین کے مخصوص ہوتے۔اشاعت کلام کے باوجود شاعرات کے کوائف پوشیدہ رہتے ہیں۔شاعرات ہرگزنہیں چاہتی کہ ان کی  زندگی معمولات عام ہوں۔دنیا ان کے شجرۂ نسب سے واقف ہوجائے ان کی عمر،خدوخال ، مشاغل واطواراسی طرح پردوںرہتاہے جس طرح وہ رہتی ہیں۔رافعہ سعادت کے ابتدائی مضمون میں ، نعت گوئی میں شاعرات کا حق تسلیم کرانے کی مکمل سعی کرتی ہیں۔’’ نظم ونثردونوں سے جب میرے شعورکی راہیں آشناہوئیں تو، جب بھی کسی شاعر کی نعت گوئی کاتذکرہ ہوتایاکسی کے نعتیہ مجموعے کی رونمائی ہوتی تو میرے تخیل میں ہمیشہ یہ سوال ابھرتا کہ کیاشاعر ہی نعتیہ کلام کہہ سکتاہے؟ شاعرہ کیوں نہیں؟ یہ امتیاز کیوں؟ جبکہ وجہ تخلیق میں مردوعورت کی کوئی تخصیص نہیں‘‘۔
جناب محمداقبال کی مدد سے وہ ایک ایساتذکرہ نعت گوشاعرات مرتبہ کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں  جس میں تقریباً ۳۳شاعرات کے احوال کہیں مفصل اورکہیں مختصر موجود ہیں۔یہ ابتدائی نوعیت کی کوشش ہے جوجدید تحقیقی اندازمیں کام کوآگے بڑھانے کی تحریک کرتی ہے۔مضمون نگارہ نے زیادہ ترتوجہ احوال ونمونہ کلام پرکی ہے۔تبصرہ وتوجہ کی مکمل توجہ نہیں کی ہے۔
ڈاکٹرسیدشاہ مدارعقیل: ’’کرناٹک میں نعت گوئی کے پچاس سال‘‘
ڈاکٹرشاہ مدارعقیل کا مضمون ’’کرناٹک میں نعت گوئی کے پچاس سال‘‘ نے دراصل نصف صدی کے نعت گوئی کے سرمایے کوسمیٹنے کی کوشش کی ہے۔مضمون نگارنے ابتدامیں نعت گوئی کے لوازمات اور اس کے ارتقا کی خدوخال بیان کیے گئے ہیں ۔یہ تکرارباربار نعت نمبر میں دہرائی گئی ہے فاضل مرتب نے شاید اس جانب توجہ کم دی ہو۔اس طویل تمہیدنے اصل موضوع کو تشنہ کردیاہے ۔اورمضمون کامطالعہ کرنے کے بعد خیال آتاہے کہیں یہ فاضل مضمون نگار مسلکی تعصب کاشکارتونہیں؟یاپھرمواد کی کمیت احساس رہاہو۔خیریہ اچھی کوشش ہے یہ توصرف معلومات میں سے ہیں اوربھی نصف صدی میں اوربھی بہت کچھ نامعلوم کی پردوںمیں ہیں۔مواد کی فراہمی مشکل توضرور تھی ناممکن تونہیں۔مرحوم آدم خان جیسے نعت گوشاعر کوفراموش کیاگیاجنہوں نے ساری زندگی سوائے حمدونعت کے کسی اور صنف میں طبع آزمائی نہیں ۔ان کے حمد یہ و نعتیہ سرمایہ غیرمطبوعہ ہے۔ان کے بھائی نفیس ابراہیم ان کے کلام کوترتیب دے رہے تھے خداجانے کن مراحل میں ہے۔نازرانی بنوری تونظرآتے ہیں تومگرامیدادیبی ندارد۔اورغیرمسلم شعرا کی نعتیہ شاعر ی کوبھی نظراندازکیاگیاہے۔
کہیں اس کی وجہ یہ تو نہیں ۔ڈاکٹرطلحہ رضوی برق کے الفاظ میں
’’یہ جوغیرمسلم نعت گویوں کی لمبی لمبی فہرست پیش کی جاتی  رہی ہے کس روسے انہیں نعت گوکہاجائے؟کیاحضرت حسان، حضرت کعب، جامی، خسرو، محسن ، ریاض، میر، رضا بریلوی بھی نعت گوہیں اورکالکاپرشاد، لچھمی نرائن، دیاشنکرنسیم، عزت سنگ عیش، تلوک چند محروم، آنندنرائن ملا اورجگن ناتھ آزادبھی‘‘(سفیرنعت شمارہ ۳)
یہ اعتراض حیران کن ہے۔گزارش ہے کہ حضور کی ذات والاصفات نے غیرمسلموں کومتاثرکیاتوکیاانہیں حق نہیں پہنچتا کہ وہ جذبات کا اظہار شعر میں کریں۔خداکی وحدانیت کا اقرار، رسول کی رسالت کی تصدیق ہی ان کے زندہ ہونے کی شناخت نہیں ہے۔اورنبیﷺ پرصرف مسلمانوں کااجارہ داری تونہیں۔یہ پابندی کہیں نہیں کہ غیرمسلموں کی زبانوں پر رسول کانام نہیں آئے۔مضمون روایتی اندازمیں لکھاگیاہے۔اسے تعارفی نوعیت کامضمون کہاجاسکتاہے تحقیقی نہیں۔
ہمارے نبی(حافظ کرناٹکی) مبصر محمداقبال
محمداقبال نے حافظ کرناٹکی کی  بچوں کے لیے تحریر کردہ منظوم سیرت’’ہمارے نبی‘‘ پرمبصرانہ نظرڈالی ہے حالانکہ حافظ کرناٹکی باقاعدہ نعت کے شاعرنہیں ہیں ان کی شہرت شاعراطفال کی حیثیت سے ہے۔محمداقبال کوبھی اقرار ہے حافظ کرناٹکی بچوں کے شاعر ہیں۔مبصرنے نظم کے مزاج اورفنی تلازموں کوپیش نظررکھ کر جوموازنہ کیاہے وہ لائق دادہے ۔
 مولوی ریاض الرحمٰن رشادی؛ قصیدہ بردہ شریف
ریاض الرحمٰن صاحب نے قصیدہ بردہ شریف کے اکثراشعاراوران کاترجمہ درج کرکے ان کے خوبیوں کی نشاندہی کی ہے۔واقعہ یہ ہے کہ اس  کا صحیح لطف عربی دان حضرات  ہی اٹھاسکتے ہیں۔ترجمے سے بہرہ اندوزہوناگلستان کے دوردور سے سیرکرناہے۔ مضمون نگار نے صاحب قصیدہ بردہ شریف کے مختصر کوائف بیان کئے ہیں ۔قصیدہ بردہ شریف کی مختصر وضاحت ،قصیدہ بردہ شریف کی تالیف کی وجہ اوراس کے فوائد بیان کئے ہیں۔فاضل مضمون گار نے جس طرح قصیدہ بردہ شریف کی تفصیلات ومفاہیم بیان کیے ہیں ۔یہ مضمون اردودان طبقہ کے لئے ایک انمول تحفے سے کم نہیں۔
ڈاکٹرشاہ رشادی عثمانی:نعت گوئی کافن اوراس کی دینی حیثیت واہمیت
ڈاکٹرشاہ رشاد عثمانی محقیقین وناقدین نعت کے لیے محتاج تعارف نہیں ۔ڈاکٹرصاحب معروف محقق نعت ہیں۔یہ مضمون ان کی کتاب سے ماخذہے ۔ان کاکہناہے کہ خداوندتعالیٰ نے اپنے محبوب کی تعریف ومدحت کاحق ادا کردیاہے ۔اوریہ کسی انسان کے بس کی بات نہیں۔قرآن مجیدمیں حضور کے لیے جس طرح نعت کہی گئی ہے اس انداز کی پیروی کرنا اوراس اسلوب میں نعت کہناشاعر کے لیے ممکن نہیں۔لیکن فرامین خدا کو نمونہ بناکراس کی سعی توکی جاسکتی ہے۔فاضل مضمون نگارنے نعت گوئی کے فن اوراسکی دینی حیثیت واہمیت پرخاطرخواہ نظرڈالی ہے۔مضمون کتاب سے اقتباس ہے ہے اس لئے قاری کے تشنگی کومزیدبڑھادیتاہے۔اللہ عمرمیں زیادتی عطافرمائے۔
لہریں :محمداقبال
کسی بھی اخباریارسالے کے ادارہے کوریڑھی کی ہڈی کہاجاتاہے مدیرادبی ایڈیشن نے درباررسالت میں عشق کے گہر لٹائے ہیں۔اور اقرارکرتے ہیں
’’زیرنظر’’نعت نمبر‘‘بارگاہ رسالت میں ایک معمولی سا نذرانۂ عقیدت ہے‘‘
مختصرلفظوں میں شعرا کونعت گوئی کی دعوت دیتے نظرآتے ہیں۔ریاست کی کیفیت حال دھمال یوں بیان کرتے ہیں
’’ادب کے میدان میں صنف نعت کی وسعتوں اورحکمتوں کواچھی طرح سے سمجھ کر برتنے والے شعرا اس کی برکتوں اورکرامتوں سے سرفراز ہوتے ہیں جن شعرا کے یہاں عشق وعقیدت میں جتناخلوص ،گہرائی اوراستحکام ہوگا ان کی نعتوں میں اتنی ہی وسعت وگیرائی وتاثیرہوتی ہے بیان میں بڑی بے ساختگی اوروالہانہ پن ہوتاہے کہ سننے اورپڑھنے والے ازخودوجد کرنے لگیں۔ورنہ اکثرنعتوں میں ایک رسمی طرزاظہار ،مضامین کی تکرار اوربے کیفی سی محسوس ہوتی ہے‘‘
داکٹرعبدالکریم تماپوری : دکنی ادب میں نعت گوئی کی روایت
اس میں نعت  کی تعریف اور نعت کے آغازوارتقا بیان کیاگیاہے نیزاس میں ایک شبہ بیان کیاگیاہے’’ڈاکٹرصاحب کی زبان میں؛
’’مثنوی کدم راو پدم راو جوتقریباً چھ سو سال قبل احمدشاہ بہمنی کے دورمیں لکھی گئی (۱۴۲۱یا۱۴۲۰) یہ مثنوی اردوکی پہلی مثنوی سمجھی گئی ہے اس اعتبار سے اس کی نعت بھی پہلی نعت تصور کی جائے‘‘
 ڈاکٹر ریاض مجید نے اردو کے پہلے نعت گو کا اعزاز فخر الدین نظامی کو عطا کرتے ہوئے لکھا ہے:
اس دور کی سب سے پہلی تصنیف جواب تک دریافت ہوئی ہے فخرالدین نظامیؔ کی ’’کدم راو پدم روا‘‘ لہٰذا اردو نعت کے اولین ، باقاعدہ اور مستند نمونے کی تلاش میں ہمیں سب سے پہلے اسی مثنوی سے رجوع کرنا پڑتا ہے۔(ڈاکٹر ریاض مجید، اردو میں نعت، ص۱۷۶)
پروفیسر محمد اکرم رضا نے نظامیؔ بیدری کی زبان کو خواجہ صاحب کی زبان سے قدیم تصور کرتے ہوئے لکھا ہے:
’’کدم راو پدم راو‘‘ میں موجود نعت قدیم اردو کا نمونہ ہے اس میں ہندی اور سنسکرت کے الفاظ عام ہیں جب کہ خواجہ گیسو دراز کی نعت ان کی نسبت زیادہ عام فہم اور روزمرہ سے زیادہ قریب ہے۔(’’شام و سحر‘‘، نعت نمبر شمارہ۶، ص۶۸)
اسی طرح حفیظ تائب نے ڈاکٹر جمیل جالبی کی مرتبہ مثنوی کے حوالے سے لکھا ہے:
ڈاکٹر جمیل جالبی نے ’’کدم راو پدم راو‘‘ کے مقدمے میں تفصیلی بحث کرکے یہ نتیجہ نکالا ہے کہ خواجہ گیسو دراز سید اکبر حسین (کذا) کی کوئی اردو تصنیف نہیں لہٰذا فخر الدین کی مثنوی ’’کدم راو پدم راو‘‘ میں حمد کے بعد آنے والے نعتیہ اشعار کو اردو کا پہلا مستند نمونہ سمجھا جاتا ہے(’’نقوش‘‘ نعت نمبر، جلد دہم، ص۱۶۹)
اگرخواجہ صاحب سے منسوب نثری رسائل’’معراج العاشقین‘‘،’’ہدایت نامہ‘‘، ’’شکارنامہ‘‘ وغیرہ کو ان کی تصانیف نہ بھی مانا جائے تو شاعر کی حیثیت سے ان کی مختلف النوع منظومات اور صوفیانہ گیتوں کو یکسر نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ مولوی عبد الحق، ڈاکٹر زور، مولوی نصیر الدین ہاشمی، مولوی سخاوت مرزا اور ڈاکٹر جمال شریف نے خواجہ بندہ نواز کی شاعری کے نمونے پیش کرتے ہوئے ان کو اردو کا پہلا شاعر تسلیم کیا ہے۔ ان نمونوں میں حضرت کے نعتیہ اشعار بھی شامل ہیں۔ ذیل میں حضرت بندہ نواز کی مختلف النوع منظومات سے صرف نعتیہ اشعار کے نمونے پیش جاتے ہیں:
اے محمدؐ ہجلو جم جم جلوہ تیرا
ذات تجلی ہوے گی سیس سپور نہ تیرا
واحد اپی آپ تھا اپسیں آپ نجھایا
پرگٹ جلوے کار نے الف میم ہو آیا
(ڈاکٹر اسماعیل آزاد فتح پوری، اردو میں نعتیہ شاعری، جلد اوّل،ص۱۲۶، ڈاکٹرریاض مجید، اردو میں نعت، ص۱۲۶، ڈاکٹر نسیم الدین فریس، دکنی ادب کے مطالعے کی جہتیں، ص۹۵، مولوی عبدالحق، اردو ابتدائی نشوونما صوفیائے کرام کا کام، ص۲۳ جمال شریف، دکن میں اردو شاعری ولیؔ سے پہلے، نظرثانی، محمد علی اثر، ص۶۸، راجا رشید محمود، اولیات نعت، مشمولہ ’’سفیر نعت‘‘ ۶، ص۱۱۵)
مثلث
او معشوق بے مثال ہے نور نبیؐ نپایا
نورِ نبیؐ رسول کا میرے جیو میں بھایا
اپس کوں اپیں دکھانے کیسی آرسی لایا
(جمال شریف۔ دکن میں اردو شاعری ولی سے پہلے۔ نظر ثانی محمد علی اثر، ص۶۴، راجا رشید محمود۔ اوّلیاتِ نعت، ’’سفیرنعت‘‘ ۲، ص ۱۱۵، نسیم الدین فریس، دکنی ادب کے مطالعے کی جہتیں، ص۹۳)
٭
نام لے اللہ محمدؐ کا اوّل
کب کا سب کوں کہوں برمحل٭۷
٭
پانی میں نمک ڈال نمک دیک ناد سے
جب گھل گیا نمک تو نمک بولنا کسے
یوں کھوئی خودی اپنی خدا سات محمدؐ
جب گھل گئی خودی تو خدا بن نہ کوئی دسے
(دکن میں اردو شاعری ولی سے پہلے، ص۶۷ نصیر الدین ہاشمی، تاج کمپنی لاہور، ۱۳۵۶ھ، ص۱۶۔۷)
٭
الف اللہ اس کا دستا
میانے محمدؐ ہوکر بستا
سچے طلب یوں کو دستا
گے ما بسم اللہ ہو، ہو اللہ
(ڈاکٹر زور، تذکرۂ اردو محطوطات (جلد اوّل) ترمیم و اضافہ محمد علی اثر، ص۱۲۱، ڈاکٹر زینت ساجدہ، دکنی گیت، مشمولہ عثمانیہ ’’دکنی ادب نمبر (۱۹۶۴ء) ص۲۱۸، محمدنسیم الدین فریس تحقیقات، ص۲۱، دکن میں اردو شاعری ولی سے پہلے، ص۶۲، سفیرنعت، ص۱۱۵، اردو میں نعتیہ شاعری، ص۱۲۷)
(چکی نامہ)
لولاک خلقت الافلاک خالق پالاے
فاضل افضل جیتے مرسل ساجد سجود ہوآے
اُمت، رحمت، بخشش ہدایت تشریف لاے
(۱،دکن میں اردو شاعری ولی سے پہلے، ص۶۵)
نعت گوئی کے ان قدیم نمونوں سے یہ استنباط ہوتا ہے کہ قدیم دکنی کا پہلا نعت گو فخرالدین نظامیؔ مصنف مثنوی ’’کدم راو پدم راو‘‘ نہیں بلکہ حضرت بندہ نواز گیسو دراز ہیں۔ دکنی اردو کے صوفی شعرا اور مبلغین اسلام عربی اور فارسی زبانوں پر غیرمعمولی عبور رکھتے تھے لیکن اپنا پیغام عوام تک پہنچانے کے لیے مقامی بول چال کی زبان دکنی کو انھوں نے اپنی تقریر اور تحریر کا ذریعہ بنایا۔ دوسرے الفاظ میں مذہب کے زیر اثر قرآن حکیم اور احادیث نبوی کے ترجمے، تفاسیر اور فقہی مسائل کی تفہیم و تلقین سے لے کر سرور کائنات، فخر موجودات حضرت محمدﷺ کی سیرتِ مبارکہ کا بیان ابتدا ہی سے ملتا ہے۔ سیرت نگاری کے موضوعات میں حضور اکرمﷺ کے فضائل و شمائل، میلاد و معراج اور معجزات و مغازی سبھی شامل ہیں۔(جہان نعت شمارہ ۱۔خواجہ بندہ نواز کی نعت گوئی)
میں ڈاکٹرصاحب سے گزارش کروں گا ایک بارنظرثانی فرمالیں۔ودیگرمضامین بھی بہترہیں لیکن تکرار سبھی میں پائی جاتی ہے۔نظم کے حصے میں کئی نعوت فنی ومذہبی اسقام پایاجاتاہے شایدکہ فاضل مدیر نے اس طرف توجہ نہیں کی یاپھر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اگرمضمون طویل ہونے کاخدشہ نہ ہوتاتوان کاسرسری جائزہ لیتا۔
۔اختتامیہ
روزنامہ ’’سالار‘‘بنگلور کے خصوصی نعت نمبروں کے مختصرسے مطالعے کے بعد ان کے حوالے سے تاثرات دینے سے قبل  مناسب سمجھتاہوں کہ اتنے عظیم اوراہم منصوبے کی بخیروخوبی تکمیل پر جناب محمداقبال اوران کے رفقائے کارکومبارک باد دوں جواس کے بجاطورپہ مستحق ہین ۔
نعت کے حوالے سے نثرمیں ریاست کرناٹک میں بہت کم کام ہواہے ایکسویں صدی کے پہلے دہ میں اس جانب توجہ دلانے والوں میں ارباب’’ سالار ‘‘سپہ’’سالار‘‘ ہیں۔اورحمدکے حوالے سے تو کچھ بھی کام نہیں ہواہے۔ریاست میں حمد کے موضوع پر پہلی کتاب محترمہ ڈاکٹرسلمیٰ کولور کی اور نظمیہ حمدیہ مجموعہ جناب منیراحمد جامی کا ۱۹۸۷؁ ٗ میں شائع ہوا۔ جوکہ عالمی اردحمدیہ ادب میں ساتویں نمبرپہ ہے۔ نعت کے بارے میں ایک خیال یہ تھا کہ یہ ایک مقدس چیزہے اس کوپڑھواورچومو اورطاق پہ سجادو۔ہم ذرا شعور کے پیرپھیلائے توسیاسی اورنیم سیاسی نظریات کوتنقید کی مسند پرلابیٹھا۔جب خود کچھ نہ کرسکے تومغرب کے دوسرے اورتیسرے درجے کے فنکاروں اورقلمکاروں کو تنقیدکے امام سمجھ بیٹھے ہیں۔یہاںتک کہ حمدونعت ،مرثیہ،منقبت کوبھی مغربی اصول شاعری پررکھاگیاہے۔’سالار‘نے نعت کے تمام شعری اورموضوعاتی پہلوؤں کے جائزہ پرمنحصر مضامین شائع کیے۔عوام الناس کوپتہ چلا معیارکیاہوتاہے۔کہاں ہے کہاں نہیں ہے۔نعت کوئی کسی فرقہ ،مذہب علاقہ یازبان سے مخصوص نہیں۔یہ ہرصاحب ایمان اورذی شعور کے دل کی آواز ہے۔اس کی وسعت کاہلکاسا خاکہ ان مضامین میں ملتاہے جوعربی فارسی اردو کے سرمایۂ نعت کے حوالے سے لکھے گئے ہیں۔انہیں پڑھکر سربلنداور سینہ کشادہ ہوتاہیْْ۔
لوگ کسی ایک دشت فکر میں یاراہ عمل میں بڑے کارنامے انجام دے کرنام پیداکرتے ہیں لیکن ان سے بڑانام ان کا ہوتاہے جنہوں نے اس کی بنیادرکھی ریاست کرناٹک میں تاریخ  ادب نعت کی دیوارمیں پہلاپتھرروزنامہ سالار کے ادبی مدیرمحمداقبال کے نام کاہے