زمین تا بہ فلک کب ہوا نہاں محور نہ کیوں ہو ذہن مرا مِحو ہے عیاں محور

نعت۔ ۔ ۔ ۔ ۔ :سیدانورجاویدہاشمیؔ

زمین تا بہ فلک کب ہوا نہاں محور
نہ کیوں ہو ذہن مرا مِحو ہے عیاں محور
نگاہِ شوق رہے منتَظر مدینے کی
تلاش کرتے ہیں جس طور کارواں محور
مری نگاہ میں ہیں آپؐ مُرسِل و مُرسَل
کلُ انبیاؑ کے لیے ختمِ مُرسلاں محور
ہرآن سجدہ گزاری میں دل رہیں اُس کے
قرار جس نے دیئے کلمہ و اذاں محور
اسی کو مومنو محور حیات کا جانو
ہے شرح دینِ مُبیں آپﷺ کا بیاں محور
مری عبادتیں یاں میرے کام آتی ہیں
وہاں بنائوں گا میں خُلد میں جِناں محور
قلم اُٹھائوں پئے نذر نعتِ آقاﷺ میں
نہ تاب لائے اگر دیکھ کر زباں محور
بس اختیار کی حد میں ہی ہاشمیؔ رہنا
کہاں تمھاری نگاہیں! بھلا کہاں محور