زندگی اک سوال ہے ربی آپ اپنی مثال ہے ربی

عبدالمجیدکوثرؔ

زندگی اک سوال ہے ربی
آپ اپنی مثال ہے ربی

ایسی بپتا پڑی ہے اب مجھ پر
سانس لینا محال ہے ربی

اتنا ٹوٹا ہوں ایسا بکھرا ہوں
میرا جڑنا محال ہے ربی

ہائے دنیا کی سب کتابوں میں
لفظ انساں کا، کال ہے ربی

کیسے موتی نکالوں ساگر سے
قطرے قطرے پہ جال ہے ربی

حال کہتے تھے دل سے ہم لیکن
وہ بھی اب پائمال ہے ربی