سبز گنبد سے کبھی بھی نہ جدا ہوں آنکھیں میرے سرکار مجھے ایسی عطا ہوں آنکھیں

سبز گنبد سے کبھی بھی نہ جدا ہوں آنکھیں
میرے سرکار مجھے ایسی عطا ہوں آنکھیں

اپنی آنکھوں سے میں چوموںگا سنہری جالی
اس سے پہلے کہ میں مر جائوں فنا ہوں آنکھیں

نزع کے وقت ملے اُن کی زیارت کا شرف
لب ہوں خاموش مرے محوِ ثنا ہوں آنکھیں

سامنے روضۂ اقدس کے رہے میرا قیام
لب سوالی ہوں مرے اور گدا ہوں آنکھیں

اپنی آنکھوں میں بسا لائوںگا منظر سارے
اس لیے طیبہ کو لے کے میں چلا ہوں آنکھیں

یاد کرکے جو مدینہ نہ بہائیں آنسو
ایسی آنکھوں سے تو بہتر ہے کہ نا ہوں آنکھیں

میرے سرکار کرم اتنا لحد میں کرنا
سبز گنبد ہو مرے سامنے وا ہوں آنکھیں

ہو اگر گنبدِ خضریٰ کی زیارت ساجدؔ
اشک بہتے رہیں اور نعت سرا ہوں آنکھیں
محمد امین ساجد سعیدی (حاصل پور)