سرکا ردو جہاں سے جسے پیا ر ہو گیا

سرکا ردو  جہاں سے جسے پیا ر  ہو گیا
بیڑا  سمجھ
لو اس کا یہاں  پا ر  ہوگیا
بے شک اسے بلاتے ہیں سرکا ر
اپنے پاس
جو  صد ق دل سے ان کا طلبگار  ہو گیا
بے شک ہو ا وہ دولت دنیا سے
بے لحاظ
دیدار ِ  مصطفیٰ
سے جو  سر شا ر  ہو گیا
سو ئے  مدینہ
ہم کو  بلا  لیجئے
حضو ر
جینا  ہما ر ا
ہند  میں  دشوا ر
ہو گیا
بے شک کرم ہے آپ کا سورج
کے حال پر
آباد اس کا دیکھئے
گھربارہو گیا
 
سورجؔ کرناٹکی ہری ہر